اسرائیل نے امریکا کو کیسے ایران جنگ میں گھسیٹا؟ امریکی انسداد دہشتگردی ادارے کے سربراہ کے اہم انکشافات

'ضمیر کے خلاف جا کر ایران جنگ کی حمایت نہیں کر سکتا': امریکی انسدادِ دہشتگردی ادارے کے سربراہ مستعفی
شائع 17 مارچ 2026 10:13pm

امریکا میں ایران کے خلاف جاری جنگ کے معاملے پر اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے ہیں، جہاں انسداد دہشتگردی ادارے کے سربراہ جو کینٹ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ضمیر کی آواز کے خلاف جا کر اس جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے۔

امریکی نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر اپنے استعفے کا اعلان کیا۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران امریکا کے لیے کوئی فوری خطرہ نہیں تھا اور یہ جنگ ایسے دباؤ کے تحت شروع کی گئی جو اسرائیل اور اس کے حامی حلقوں کی جانب سے آیا۔

انہوں نے لکھا کہ وہ اس پالیسی کی حمایت ”اچھے ضمیر کے ساتھ نہیں کر سکتے“، جس سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی حکومت کے اندر بھی اس جنگ کے جواز پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

امریکی قومی انسداد دہشت گردی مرکز کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے تحت امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں لمبی اور نقصان دہ جنگوں میں نہیں الجھنا چاہیے تھا، جیسا کہ انہوں نے اپنی پہلی مدت میں داعش کے خلاف کامیاب آپریشنز اور قاسم سلیمانی کے قتل کے ذریعے ظاہر کیا۔

تاہم، انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی حکام اور اثرورسوخ رکھنے والے امریکی میڈیا نے جنگی جذبات بھڑکانے کے لیے غلط معلومات پھیلائی، جس سے صدر کو یہ باور کرایا گیا کہ ایران فوری خطرہ ہے اور حملہ کرنا جلد فتح کی راہ ہے۔

کینٹ کے مطابق یہ ایک جھوٹ تھا، اور اسی حکمت عملی کا استعمال اسرائیل نے عراق کی مہلک جنگ میں بھی کیا، جس نے امریکا کو ہزاروں جانوں اور اربوں ڈالر کے نقصان میں مبتلا کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ گیارہ مرتبہ لڑائی میں جانے والے ایک سابق فوجی کے طور پر میں نے اپنی بیوی شینن کو اسرائیل کی تیار کردہ جنگ میں کھویا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ نئی نسل کو ایسی جنگ میں بھیجنے کی حمایت نہیں کر سکتے جو امریکی عوام کے لیے کوئی فائدہ نہیں رکھتی اور نہ ہی امریکی جانوں کے ضیاع کو جواز فراہم کرتی ہے۔

کینٹ نے ٹرمپ سے اپیل کی کہ وہ ایران میں جاری کارروائیوں پر غور کریں اور یہ سمجھیں کہ یہ جنگ کس کے لیے کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت ہے کہ درست راستہ اپنایا جائے اور امریکا کو زوال اور افراتفری سے بچایا جائے۔

استعفیٰ دیتے ہوئے کینٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ میں خدمت کرنا اور اپنی قوم کے لیے کام کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات تھی۔

امریکی نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر، جو کینٹ کے استعفے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ ”سیکیورٹی کے معاملے میں بہت کمزور“ تھے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا، ”جب میں نے ان کا بیان پڑھا، تو میں نے سوچا کہ یہ اچھی بات ہے کہ وہ چلے گئے، کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ ایران کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ہر ملک یہ جانتا ہے کہ ایران کتنا بڑا خطرہ تھا، سوال صرف یہ تھا کہ آیا وہ اس بارے میں کچھ کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔“

جو کینٹ امریکا کو دہشتگردی کے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے معلومات اکٹھی کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کے ذمہ دار تھے۔

ان کے استعفے کو اس بات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر نہ صرف اپوزیشن بلکہ ان کے اپنے حلقوں میں بھی اختلاف پایا جا رہا ہے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایران پر حملوں کے حوالے سے مختلف بیانات دیے ہیں اور انہوں نے اس تاثر کو رد کیا ہے کہ امریکا نے اسرائیل کے دباؤ پر یہ قدم اٹھایا۔

اس معاملے پر ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے بھی کہا کہ وائٹ ہاؤس کو خدشہ تھا اسرائیل خود کارروائی کر سکتا ہے، جس کے باعث صدر کو ایک مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔

جو کینٹ کے استعفے پر نہ تو وائٹ ہاؤس کی جانب سے فوری ردعمل سامنے آیا اور نہ ہی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ کے دفتر نے کوئی واضح بیان جاری کیا۔

جو کینٹ اس سے قبل سیاست میں بھی حصہ لے چکے ہیں اور واشنگٹن ریاست سے کانگریس کے لیے دو بار انتخاب لڑ چکے ہیں، تاہم کامیاب نہیں ہو سکے۔

وہ ایک سابق فوجی بھی ہیں اور گرین بیریٹ کے طور پر 11 بار مختلف مشنز پر تعینات رہے، بعد ازاں انہوں نے سی آئی اے کے ساتھ بھی کام کیا۔

ان کی تقرری کے وقت بھی تنازع سامنے آیا تھا، کیونکہ ڈیموکریٹس نے ان کے بعض دائیں بازو کے گروپوں سے روابط اور متنازع بیانات پر شدید اعتراض کیا تھا۔

ان پر یہ الزام بھی تھا کہ انہوں نے ماضی میں ایسے افراد کے ساتھ کام کیا جو شدت پسند خیالات رکھتے تھے۔

سینیٹ میں ان کی تقرری معمولی اکثریت سے منظور ہوئی تھی، جس سے اس وقت بھی سیاسی تقسیم ظاہر ہوئی تھی۔

تاہم ریپبلکن رہنماؤں نے ان کے تجربے کو سراہا اور کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لیے وقف کی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جو کینٹ کا استعفیٰ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے معاملے پر امریکا کے اندر سنجیدہ اختلافات موجود ہیں۔

خاص طور پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا اس جنگ کی واقعی ضرورت تھی یا نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ اختلافات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں، جس سے نہ صرف امریکی سیاست بلکہ عالمی صورتحال پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔

Read Comments