علی لاریجانی کی شہادت کے بعد اسرائیل پر ایران کے 100 سے زائد اہداف پر حملے، 200 فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

تل ابیب پر ایرانی میزائل حملوں کے بعد کئی مقامات پر آگ لگ گئی، کئی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔
اپ ڈیٹ 18 مارچ 2026 12:01pm

سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کی شہادت کے بعد ایران نے اسرائیل پر شدید حملے کیے۔ آپریشن وعدہ صادق چار کے تحت اسرائیل پر حملوں کی اکسٹھویں لہر میں تل ابیب کو متعدد میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ حملوں میں جانی و مالی نقصان ہوا جب کہ کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔

ایران کے قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کی شہادت کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن وعدہ صادق چار کے تحت اسرائیل کے خلاف حملوں کی 61 ویں لہر کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی مسلسل جاری عسکری مہم کا حصہ ہے۔

پاسداران انقلاب کے مطابق اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب پر خرمشہر چار، قدر، عماد اور خیبر شکن میزائل داغے گئے، نئے حملوں میں 100 سے زائد اہداف پر لگے ہیں اور ان حملوں میں 200 اسرائیلی ہلاک اور زخمی ہوئے۔ 

ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ حملے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کی شہادت کے جواب میں کیے گئے، جس میں کلسٹر وار ہیڈز والے میزائل استعمال کیے گئے تاکہ زیادہ سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا جا سکے۔

ایرانی صدر نے بیان میں کہا کہ امریکی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں اور حملوں کے خلاف دفاع ایران کا فطری حق ہے، جس میں وہ ماہر ہیں۔ علی لاریجانی کی شہادت کا انتقام لیں گے۔ ایران نے واضح کیا کہ ایسے حالات میں جنگ ختم کرنے کی بات معنی نہیں رکھتی، ایران کے خلاف امریکی اڈوں کا استعمال بند ہونا چاہیے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق تل ابیب میں ہونے والے ان حملوں کے نتیجے میں متعدد گاڑیاں تباہ ہو گئیں اور کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی، جب کہ عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

ایران نے رات گئے مزید میزائل داغے جس کے بعد تل ابیب میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں آگ لگنے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق تازہ حملوں میں دو اسرائیلی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جب کہ کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ حملوں کے بعد تل ابیب کے ایک ٹرین اسٹیشن میں بھی آگ لگنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ کلسٹر وار ہیڈز ایسے ہتھیار ہوتے ہیں جو فضا میں پھٹ کر کئی چھوٹے دھماکوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں اور وسیع علاقے کو نشانہ بناتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں روکنا مشکل ہوتا ہے۔ تل ابیب پر ہونے والے حملے کے بعد مجموعی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر چودہ ہو گئی ہے۔

Read Comments