ایران پر حملہ نہ کرتے تو تہران جلد ایٹمی حملہ کر سکتا تھا: صدر ٹرمپ

آبنائے ہرمز کے لیے جہاز نہ بھیجنا بڑی غلطی ہے, امریکی صدرکی نیٹو پر سخت تنقید
شائع 18 مارچ 2026 09:35am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کے لیے جہاز نہ بھیجنا بڑی غلطی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران پر حملہ نہ کرتے تو تہران جلد ایٹمی حملہ کر سکتا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے ایک بار پھر نیٹو کے خلاف شکایات کا اظہار کیا، کہا کہ اتحادیوں کے رویے پر ناراضی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو آبنائے ہرمز کے معاملے پر جہاز نہ بھیج کر احمقانہ غلطی کر رہا ہے۔

آئرلینڈ کے وزیراعظم سے ملاقات کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے ہمیشہ نیٹو اتحادیوں کی ہر موقع پر مدد کی، مگر اب اتحادی امریکا کا ساتھ دینے سے گریزاں ہیں، جو افسوس ناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب امریکا کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، تاہم نیٹو کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے۔ ٹرمپ کے مطابق آبنائے ہرمز جیسے اہم علاقے میں غیر فعالیت ایک بڑی حکمت عملی کی غلطی ہے۔

ٹرمپ نے بتایا کہ برطانوی وزیر اعظم امریکا کی کامیابی کے بعد دو طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے پر آمادہ ہوئے، تاہم انہوں نے اس تاخیر پر مایوسی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانوی وزیر اعظم ایک اچھے انسان ہیں لیکن صورت حال میں فوری اقدام ضروری تھا۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکا ایران پر حملہ نہ کرتا تو تہران ایٹمی ہتھیار تیار کر کے چوبیس گھنٹوں کے اندر حملہ کر سکتا تھا۔ ان کے مطابق امریکی کارروائی نے ایران کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا فوری طور پر خطے سے نکلنے کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم مستقبل قریب میں وہاں سے انخلا ممکن ہے۔

ٹرمپ نے جو کینٹ کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو خطرہ نہ سمجھنا غلط ہے۔ ان کے بقول جو کینٹ ایک اچھے انسان ہیں لیکن سلامتی کے معاملات میں کمزور ثابت ہوئے۔

Read Comments