عید پر جنگ میں وقفہ، آپریشن غضب للحق کو عارضی طور پر روک دیا گیا: وزیرِ اطلاعات

پاکستان کے اندر کسی قسم کا دہشتگرد حملہ، سرحد پار کارروائی یا ڈرون حملہ ہوا تو آپریشن فوری طور پر دوبارہ شروع کر دیا جائے گا: عطاء اللہ تارڑ
شائع 18 مارچ 2026 07:57pm

حکومتِ پاکستان نے افغان طالبان کی جارحیت کے خلاف جاری فوجی کارروائی ’آپریشن غضب للحق‘ کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات ؑطائ اللہ تارڑ کے مطابق یہ فیصلہ عیدالفطر کے موقع پر اسلامی ممالک کی درخواست پر کیا گیا ہے۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ سعودی عرب، قطر اور ترکیہ نے پاکستان سے درخواست کی تھی کہ عید کے دنوں میں فوجی کارروائیوں میں وقفہ دیا جائے، جس کے بعد حکومت نے خیرسگالی کے جذبے کے تحت یہ قدم اٹھایا۔

عطاء اللہ تارڑ کے مطابق یہ وقفہ 18 مارچ کی آدھی رات سے شروع ہو کر 24 مارچ کی آدھی رات تک جاری رہے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اسلامی روایات اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے جذبے کے تحت کیا گیا ہے، تاہم اگر اس دوران پاکستان کے اندر کسی قسم کا دہشتگرد حملہ، سرحد پار کارروائی یا ڈرون حملہ ہوا تو آپریشن فوری طور پر دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وقفے کے اعلان تک آپریشن کے دوران افغان طالبان اور ان سے منسلک عناصر کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔

عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ 700 سے زائد افغان جنگجو ہلاک اور 900 سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں، جبکہ 250 سے زائد چوکیوں کو تباہ کرکے درجنوں پر قبضہ کیا جاچکا ہے۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں بھی تباہ کی گئیں۔

بیان کے مطابق پاکستانی افواج نے 16 مارچ کی رات کابل اور ننگرہار میں اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جہاں ڈرونز کے ذخائر، تکنیکی سہولیات اور اسلحہ کے گودام تباہ کیے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ مقامات پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔

اسی طرح باجوڑ، کرم، طورخم خیبر، شمالی اور جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں بھی افغان طالبان کی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور کسی شہری آبادی یا تنصیب کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔

حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ عارضی وقفہ امن اور مذہبی ہم آہنگی کے جذبے کے تحت دیا گیا ہے، لیکن ملک کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

Read Comments