پاکستان سمیت پانچ ممالک امریکا کے لیے خطرہ قرار
امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں قومی سلامتی کے حوالے سے سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی ایک اہم ترین بریفنگ کے دوران سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں جہاں پاکستان، روس، چین، شمالی کوریا اور ایران کو امریکا کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر بتایا کہ یہ پانچوں ممالک اپنے روایتی میزائلوں کو ایٹمی صلاحیت سے لیس کرنے میں مصروف ہیں۔
اس رپورٹ میں پاکستان کے حوالے سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ اسلام آباد مبینہ طور پر ایسے بین البراعظمی میزائل تیار کر رہا ہے جو براہ راست امریکی سرزمین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ چین اور روس اس وقت امریکا کے لیے سب سے بڑے اور براہ راست چیلنج بن کر ابھرے ہیں کیونکہ وہ ایسا جدید دفاعی نظام تیار کر رہے ہیں جو امریکی سیکیورٹی کو ناکام بنا سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے میدان میں بھی چین امریکا کا سخت ترین حریف ثابت ہو رہا ہے۔
دوسری جانب شمالی کوریا کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کے میزائل پہلے ہی امریکا تک پہنچنے کی طاقت رکھتے ہیں، جبکہ ایران کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کے بین البراعظمی میزائل بنانے کے پروگرام اور جوہری صلاحیت کو حالیہ حملوں کے ذریعے کافی حد تک ختم کر دیا گیا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی پر بات کرتے ہوئے تلسی گبارڈ نے بتایا کہ اگرچہ ایران کی فوجی طاقت اور قیادت کو حملوں سے شدید نقصان پہنچا ہے لیکن وہ اب بھی خطے میں موجود اپنے ساتھیوں کی مدد سے امریکی مفادات پر حملے کرنے کی پوزیشن میں ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں ہونے والی کارروائیوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو پیچھے دھکیل دیا ہے تاہم خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ موقع ملنے پر ایرانی حکومت دوبارہ اپنے میزائل اور ڈرون فورس کو کھڑا کرنے کی کوشش کرے گی۔
امریکی سینیٹ کی اس سماعت کے دوران سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے قانون سازوں کو بتایا کہ اگر ایران کی فوجی سرگرمیوں کو نہ روکا جاتا تو وہ تین ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائل تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا تھا، جس کا مطلب ہے کہ ایرانی میزائل یورپ کے کسی بھی حصے کو نشانہ بنا سکتے تھے۔
ریٹکلف کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایران اپنی ٹیکنالوجی پر کام جاری رکھتا تو وہ براہ راست امریکہ کو دھمکانے کی پوزیشن میں بھی آ سکتا تھا۔
سماعت کے دوران جب ریپبلکن سینیٹر ٹام کاٹن نے یہ سوال پوچھا کہ کیا ایران اگلے چھ ماہ کے اندر امریکا تک پہنچنے والے میزائل بنا سکتا تھا، تو سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے اس کا کوئی واضح وقت نہیں بتایا۔
انہوں نے سینیٹر کے خدشات کو درست تو قرار دیا لیکن یہ نہیں کہا کہ ایران کو ایسا کرنے میں کتنا عرصہ درکار ہوتا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ادارے ایران کی صلاحیتوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاہم وہ کسی حتمی تاریخ پر بات کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ایک دلچسپ انکشاف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے بند کمرہ بریفنگ میں کانگریس کے عملے کو بتایا تھا کہ ان کے پاس ایسے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں تھے کہ ایران امریکا پر کسی بڑے حملے کی فوری تیاری کر رہا تھا۔
اس دوران امریکی سینیٹ میں صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں اور ارکان پارلیمنٹ نے اس جنگ کے معاشی اثرات اور امریکی ٹیکس گزاروں کے اربوں ڈالرز کے اخراجات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
تلسی گبارڈ نے سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کو اس وقت مختلف بیرونی ممالک کے ساتھ ساتھ شدت پسند نظریات سے بھی شدید خطرات کا سامنا ہے۔
انہوں نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ انتہا پسند گروہ اب بھی متحرک ہیں اور شریعت کی بنیاد پر خلافت کے قیام کا نظریہ پھیلا کر لوگوں کو اپنے ساتھ ملا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مخصوص نظریہ مغربی طرز زندگی اور جمہوری اقدار کے لیے خطرہ ہے۔
تلسی گبارڈ نے حالیہ اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ صرف 2025 کے دوران امریکا کے اندر تین بڑے دہشت گردانہ حملے ہوئے جن کے تانے بانے انتہا پسند تنظیموں سے ملتے ہیں۔
خاص طور پر ریاست مشی گن میں ہونے والے ایک حملے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس واقعے میں ملوث شخص کا تعلق حزب اللہ کے ایک اہم رہنما سے پایا گیا ہے۔