ریاض پر ایران کا میزائل حملہ ناکام، پہلی بار شہریوں کو موبائل فون پر خطرے کے الرٹس موصول

ریاض میں عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہونے والا ہے۔
شائع 18 مارچ 2026 11:37pm

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پر داغے گئے چار بیلسٹک میزائلوں کو فضاء میں ہی تباہ کر دیا گیا ہے۔ سعودی وزارت دفاع کے مطابق یہ میزائل ایران کی جانب سے داغے گئے تھے، تاہم سعودی فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا۔

وزارت دفاع کے بیان میں کہا گیا کہ تباہ شدہ میزائلوں کا ملبہ شہر کے مختلف علاقوں میں گرا، لیکن ابتدائی جائزے کے مطابق کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔

واقعے کے دوران شہر میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور پہلی بار کئی شہریوں کو موبائل فون پر فضائی خطرے کے الرٹس بھی موصول ہوئے۔

عینی شاہدین نے خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ شہر کے مغربی حصے، خاص طور پر سفارتی علاقے کے قریب، فضا میں میزائلوں کو تباہ ہوتے دیکھا گیا۔

حملے کے بعد حکام نے سائرن بجائے اور شہریوں سمیت غیر ملکی افراد کو ہدایت کی گئی کہ وہ ہجوم والی جگہوں سے دور رہیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب ریاض میں عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہونے والا تھا، جس میں خطے کی سیکیورٹی اور ایران جنگ کے اثرات پر غور کیا جانا تھا۔

رائٹرز نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس اجلاس میں آذربائیجان، بحرین، مصر، اردن، کویت، پاکستان، قطر، شام، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں سے جاری ایران سے متعلق جنگ کے دوران سعودی عرب پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون حملے کیے جا چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کو فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا۔

تاہم بدھ کا حملہ اس لحاظ سے مختلف تھا کہ پہلی بار ریاض کے بہت سے شہریوں نے براہ راست دھماکوں کی آوازیں سنیں اور باضابطہ وارننگ سسٹم کا تجربہ کیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریباً تین ہفتوں سے جاری اس جنگ میں کشیدگی کم ہونے کے کوئی واضح آثار نظر نہیں آ رہے، جبکہ اس کے اثرات خطے کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی کی منڈی پر بھی پڑ رہے ہیں۔

سعودی حکام نے اس واقعے کے بعد سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے اور صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ عالمی برادری خطے میں بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دے رہی ہے۔

Read Comments