اسلامی ممالک کا ایران سے ہمسایہ ممالک کے خلاف حملے فوری روکنے کا مطالبہ
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشاورتی اجلاس میں ایران سے ہمسایہ ممالک کے خلاف حملے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اجلاس میں پاکستان، متحدہ عرب امارات، قطر، اردن، شام، مصر، ترکیہ، بحرین اور کویت کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی، جہاں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ پڑوسی ممالک پر حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور ایسے اقدامات سے خطے میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک پر حملوں سے تہران کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور اگر ایران یہ سمجھتا ہے کہ خطے کے ممالک جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔
سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑنے پر سعودی قیادت مناسب فیصلے کرے گی اور مملکت کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔
انہوں نے مزید زور دیا کہ ایران کو خطے میں پراکسی گروپس کی حمایت بند کرنا ہوگی اور سمندری راستوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ علاقائی امن و استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔
اعلامیے میں ایران سے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنائے اور عالمی تجارت میں خلل پیدا نہ کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔