امریکا کا ایران کے خلاف جنگ کے اگلے مرحلے کے لیے فوجی تعینات کرنے پر غور

زیرغور منصوبوں میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز کے لیے محفوظ راستہ یقینی بنانا شامل ہے۔
شائع 19 مارچ 2026 10:30am

امریکا ایران کے خلاف کارروائی کے اگلے مرحلے میں مزید فوجی تعیناتی پر غور کر رہا ہے، خلیجی راستوں اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے آپشنز زیر بحث ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی عہدیدار اور معاملے سے واقف متعدد ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف جاری جنگ کے ممکنہ نئے مرحلے میں داخل ہونے کے پیش نظر مشرقِ وسطیٰ میں ہزاروں اضافی فوجی تعینات کرنے پر غور کر رہا ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق یہ ممکنہ تعیناتی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو وسعت دینے کے لیے مزید آپشنز فراہم کر سکتی ہے، جب کہ جنگ اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ زیر غور منصوبوں میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز کے لیے محفوظ راستہ یقینی بنانا شامل ہے، جو بنیادی طور پر فضائی اور بحری افواج کے ذریعے ممکن ہوگا۔ تاہم اس مقصد کے لیے ایران کے ساحلی علاقوں میں امریکی فوج کی تعیناتی بھی زیرغور ہے۔

اسی طرح ایران کے خارگ جزیرے پر زمینی افواج بھیجنے کا آپشن بھی زیر بحث آیا ہے، جو ایران کی تیل برآمدات کا تقریباً 90 فیصد مرکز ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ آپریشن انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ ایران اس جزیرے کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا 13 مارچ کو خارگ جزیرے پر فوجی اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے جب کہ صدر ٹرمپ ایران کے تیل کے بنیادی ڈھانچے پر مزید حملوں کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اہم جزیرے کو تباہ کرنے کے بجائے اس کا کنٹرول حاصل کرنا زیادہ مؤثر حکمت عملی ہو سکتی ہے۔

ادھر ٹرمپ انتظامیہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے لیے بھی امریکی افواج تعینات کرنے کے امکان پر غور کر رہی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ ایک پیچیدہ اور خطرناک آپریشن ہوگا۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ فی الحال زمینی افواج بھیجنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم صدر ٹرمپ تمام آپشنز کھلے رکھے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی آپریشن کا مقصد ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت کو ختم کرنا، اس کی بحریہ کو کمزور کرنا، پراکسی گروپس کو روکنا اور ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے باز رکھنا ہے۔

امریکی فوج کے مطابق 28 فروری سے شروع ہونے والی کارروائی کے بعد اب تک 7 ہزار 800 سے زائد حملے کیے جا چکے ہیں جب کہ 120 سے زائد ایرانی بحری جہاز تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے ہیں۔

دوسری جانب اس جنگ میں اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک اور تقریباً 200 زخمی ہو چکے ہیں، اگرچہ زیادہ تر زخمیوں کی حالت معمولی بتائی جاتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق زمینی افواج کی تعیناتی صدر ٹرمپ کے لیے سیاسی طور پر بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ امریکی عوام میں اس جنگ کی حمایت محدود ہے اور وہ ماضی میں امریکا کو نئی جنگوں سے دور رکھنے کا وعدہ کرتے رہے ہیں۔

Read Comments