’اصل خطرہ بھارت کے میزائل ہیں‘: پاکستان نے اپنے میزائل پروگرام پر امریکی انٹیلی جنس کا بیان مسترد کردیا

پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں کسی دوسرے ملک کے لیے خطرہ نہیں بلکہ صرف اپنی خود مختاری کی حفاظت کے لیے ہیں: ترجمان دفترِ خارجہ
شائع 19 مارچ 2026 07:25pm

پاکستان نے امریکی انٹیلی جنس ادارے کی جانب سے اپنے میزائل پروگرام کے بارے میں دیے گئے بیان کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے حقیقت سے دور قرار دیا ہے۔

واشنگٹن میں امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے بدھ کو سینیٹ کی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان ایسے بین البراعظمی میزائل تیار کر رہا ہے جو امریکی سرزمین تک پہنچ سکتے ہیں۔

اس رپورٹ میں پاکستان کے ساتھ ساتھ روس، چین، شمالی کوریا اور ایران کو بھی امریکا کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا گیا تھا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ممالک اپنے میزائل نظام کو ایٹمی صلاحیت میں تبدیل کر رہے ہیں اور چین و روس ایسا جدید نظام بنا رہے ہیں جو امریکی دفاع کو ناکام بنا سکے۔

ان الزامات کے جواب میں پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندابی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں کسی دوسرے ملک کے لیے خطرہ نہیں بلکہ صرف اپنی خود مختاری کی حفاظت کے لیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا میزائل پروگرام بین البراعظمی حد تک نہیں ہے بلکہ یہ بھارت کے مقابلے میں صرف اپنے دفاع کو یقینی بنانے کے لیے ایک کم از کم حد تک محدود رکھا گیا ہے۔

پاکستان کا موقف ہے کہ اصل تشویش کی بات بھارت کا میزائل پروگرام ہونا چاہیے جو بارہ ہزار کلومیٹر سے بھی زیادہ فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ خطے کے امن کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

پاکستانی ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا کو حقائق پر مبنی بات کرنی چاہیے اور جنوبی ایشیا کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ باہمی احترام اور درست معلومات کی بنیاد پر تعلقات کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ شمالی کوریا کے میزائل پہلے ہی امریکا تک پہنچ سکتے ہیں جبکہ ایران کی صلاحیتوں کو حالیہ حملوں سے نقصان پہنچا ہے۔

پاکستان نے ان تمام باتوں کے درمیان اپنے دفاعی پروگرام کو شفاف اور صرف علاقائی امن و استحکام کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔

Read Comments