حملے جاری رکھے تو پارس گیس فیلڈ تباہ کردیں گے، ٹرمپ کی ایران کو دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل کو ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر مزید حملوں سے روک دیا گیا ہے، تاہم اگر ایران نے خلیجی ممالک پر حملے جاری رکھے تو امریکہ خود کارروائی کرے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو ایران کے ساؤتھ پارس قدرتی گیس فیلڈ پر دوبارہ حملہ نہیں کرنے دیں گے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے خلیجی ممالک کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا جاری رکھا تو امریکا خود اس گیس فیلڈ کو تباہ کر سکتا ہے۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے خلیج کے مختلف ممالک میں گیس اور تیل کی تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں قطر کے ایک بڑے گیس مرکز کے ساتھ ساتھ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کی آئل و گیس تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
یہ کارروائیاں ایران کی جانب سے اسرائیل کے اس حملے کے جواب میں کی گئیں، جس میں ایران کے اہم ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ جنگ 28 فروری سے جاری ہے اور اس دوران خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
حملوں کے بعد ایران، امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ بھی دیکھنے میں آیا۔ ایران نے خبردار کیا کہ اگر اس کی توانائی تنصیبات پر مزید حملے کیے گئے تو وہ خلیجی ممالک کو بھی نشانہ بنائے گا۔ اس کے جواب میں ٹرمپ نے ایران کو قطر کے توانائی ڈھانچے پر حملے روکنے کی تنبیہ کی، جبکہ سعودی عرب نے بھی کہا کہ وہ اپنے دفاع میں فوجی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ اسرائیل نے ساؤتھ پارس پر حملہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر غصے کے باعث کیا، تاہم ان کے مطابق اس حملے میں گیس فیلڈ کا صرف ایک چھوٹا حصہ متاثر ہوا۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکا کو اس حملے کا پیشگی علم نہیں تھا، تاہم امریکی اور اسرائیلی حکام کے مطابق اس کارروائی میں دونوں ممالک کے درمیان رابطہ موجود تھا۔
بعد ازاں ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا کہ اگر ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے جاری رہے تو اس کے نتائج قابو سے باہر ہو سکتے ہیں اور پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
ایران کی پاسداران انقلاب نے بھی کہا کہ اگر حملے جاری رہے تو خلیجی ممالک کی توانائی تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ قطر کا اسرائیلی حملے سے کوئی تعلق نہیں تھا، اس کے باوجود ایران نے قطر کی راس لفان گیس تنصیب کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر قطر پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو امریکا خود ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کو نشانہ بنائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس سطح کی تباہی کی اجازت نہیں دینا چاہتے کیونکہ اس کے ایران کے مستقبل پر سنگین اثرات ہوں گے، تاہم اگر قطر کی گیس تنصیبات کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا تو امریکہ کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
مبصرین کے مطابق حالیہ صورتحال نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی توانائی نظام کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے، جہاں کسی بھی بڑی کارروائی کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔