سوئٹزرلینڈ نے ایران جنگ کے باعث امریکا کو ہتھیاروں کی برآمد روک دی
ایران جنگ کے باعث سوئٹزرلینڈ نے امریکا کو ہتھیاروں کی برآمد روک دی اور کہا ہے کہ امریکا کو ہتھیار برآمد کرنے والی کمپنیوں کو لائسنس جاری نہیں کریں گے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ اقدام ایران سے متعلق جاری تنازع کے تناظر میں کیا گیا ہے، جس میں سوئٹزرلینڈ نے اپنی تاریخی غیر جانبداری کو بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔
سوئس حکومت کا کہنا ہے امریکا کو جنگی سامان کی برآمدات کی فی الحال اجازت نہیں دی جا سکتی اور امریکا کو ہتھیار برآمد کرنے والی کمپنیوں کو لائسنس جاری نہیں کریں گے۔
سوئس حکومت نے زور دیا کہ ایسے ممالک کو جنگی سامان برآمد کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی جو بین الاقوامی مسلح تنازعات میں شامل ہوں، جب تک کہ لڑائی جاری ہے۔ یہ مؤقف عالمی کشیدگی کے دوران سوئٹزرلینڈ کی غیر جانبدار پالیسی سے وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔
خاص طور پر امریکا کو اسلحہ برآمدات روکنے کا فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سوئٹزرلینڈ بین الاقوامی تعلقات میں نہایت محتاط انداز اختیار کیے ہوئے ہے اور عالمی فوجی معاملات میں اپنے دیرینہ اصولی مؤقف پر قائم ہے۔
گزشتہ ہفتے کے آخر میں سوئس حکومت نے کہا کہ اس نے ایران سے متعلق جنگی پروازوں کے بارے میں امریکی فلائی اوور کی دو درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا لیکن سوئٹزرلینڈ کے غیر جانبداری کے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے تین دیگر کو اجازت دی تھی۔
ایران جنگ کے خطرناک اثرات کے سبب توانائی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوگیا۔
یورپی یونین کے رکن ممالک ہنگامی بنیادوں پر حل تلاش کرنے پر مجبور ہوگئے، برسلز میں یورپی کونسل کے اجلاس میں ممالک کے سربراہان موجود تھے جس میں واحد ایجنڈا بڑھتے ہوئے معاشی بحران اور ایندھن کی سپلائی کے مسائل تھے۔ یورپی رہنما فوری حل کی تلاش میں ہیں تاکہ عالمی مارکیٹ میں اثرات کم ہوں۔
واضح رہے کہ برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز اور جاپان آبنائے ہرمز میں محفوظ راستہ فراہم کرنےکو تیار ہو گئے، ان ممالک نے مشترکہ اعلامیہ میں کہا ہے کہ اہم سمندری گزرگاہ کی حفاظت کیلئے مناسب اقدامات کریں گے۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز، جاپان نے ایران کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے پیغام دیا کہ توانائی پیدا کرنے والے ممالک کیساتھ مل کر پیداوار بڑھائیں گے۔