ٹرمپ نے نیٹو ممالک کو ’بزدل‘ کہہ دیا، سفارتی اقدامات کی دھمکی

آبنائے ہرمز کے تحفظ میں عدم تعاون اور جنگ سے گریز پر امریکی صدر برہم
شائع 20 مارچ 2026 08:13pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ میں شرکت نہ کرنے پر نیٹو اتحادی ممالک کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’بزدل‘ قرار دے دیا، جبکہ آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے کردار ادا نہ کرنے پر بھی ناراضی کا اظہار کردیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروٹھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ نیٹو ممالک ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے یا آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی افواج تعینات کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ ’امریکا کے بغیر نیٹو ایک کاغذی شیر ہے‘ اور کہا کہ اتحادی ممالک “جوہری طاقت رکھنے والے ایران” کو روکنے کی جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ اب جبکہ یہ جنگ “فوجی طور پر جیت لی گئی ہے’ اور دیگر ممالک کے لیے خطرہ نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے، وہ تیل کی بلند قیمتوں کی شکایت کر رہے ہیں، لیکن آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے تعاون پر آمادہ نہیں۔

انہوں نے اس عمل کو ایک ’سادہ فوجی اقدام” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ ہے۔ ٹرمپ نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ‘ یہ ان کے لیے بہت آسان ہے اور اس میں خطرہ بھی کم ہے، مگر پھر بھی وہ ایسا نہیں کر رہے، ہم اسے یاد رکھیں گے۔‘

دوسری جانب ایران نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز پر عملاً ناکہ بندی کر دی ہے۔ اس اہم گزرگاہ سے روزانہ تقریباً 2 کروڑ سے 2 کروڑ 10 لاکھ بیرل خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات گزرتی ہیں، جو دنیا بھر میں سمندری راستے سے ہونے والی تیل کی تجارت کا تقریباً 20 سے 25 فیصد بنتی ہیں۔

اس صورتحال کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ امریکا اپنے اتحادیوں پر اس اہم گزرگاہ کے تحفظ کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ خطے سے تیل کی ترسیل بحال کی جا سکے۔

رپورٹس کے مطابق جن ممالک سے ٹرمپ نے مدد طلب کی، انہیں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے قبل اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔

Read Comments