بھارت کا مشترکہ آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا تشویشناک ہے: صدر مملکت

سندھ طاس معاہدہ خطے میں پانی کی منصفانہ تقسیم کا ضامن ہے جس پر عملدرآمد میں خلل خطرہ بن سکتا ہے، صدر
اپ ڈیٹ 22 مارچ 2026 01:30pm

صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ بھارت کا مشترکہ آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر تشویش ہے۔

عالمی یومِ آب کے موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیرِاعظم شہباز شریف نے بھارت کی جانب سے آبی وسائل کے استعمال اور سندھ طاس معاہدہ سے متعلق اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ بھارت کی جانب سے مشترکہ آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا نہایت تشویشناک ہے۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں پانی کی منصفانہ تقسیم کا ضامن ہے، جس پر عملدرآمد میں خلل خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

صدر مملکت نے ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کی شیئرنگ میں تعطل پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ معاہدے پر مکمل اور فوری عملدرآمد بحال کرے۔

ادھر وزیرِاعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جو بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو پہلے ہی آبی قلت جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں نے اس بحران کی شدت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

Read Comments