ایران نے ڈیاگو گارشیا فوجی اڈے پر میزائل حملے کی تردید کردی
ایران نے بحر ہند میں امریکا اور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے ڈیاگو گارشیا پر بیلسٹک میزائل حملے کی تردید کردی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق سینئر ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ ڈیاگو گارشیا پر حملے کا ذمے دار ایران نہیں اور نہ ہی اس نے اس کارروائی میں کوئی کردار ادا کیا ہے، ڈیاگو گارشیا ایرانی سر زمین سے 4 ہزار کلومیٹر دور ہے۔
یہ بیان اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایرانی بیلسٹک میزائل داغنے کا دعویٰ کیا تھا کہ دو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے ایرانی بیلسٹک میزائل اس اڈے کی جانب فائر کیے گئے تاہم وہ اپنے ہدف کو نشانہ نہیں بنا سکے۔
اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر کا کہنا تھا کہ برطانوی اڈے پر حملے میں 4 ہزار کلومیٹر مار کرنے والا بین البراعظمی میزائل استعمال کیا گیا، ایرانی میزائلوں کی رینج یورپ تک پہنچ چکی ہے، یہ برلن، پیرس اور روم کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔
دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔
رپورٹس کے مطابق ڈیاگو گارشیا ایک اہم امریکی و برطانوی فوجی اڈہ ہے، جہاں سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار طیارے اور دیگر اسٹریٹجک اثاثے آپریٹ کیے جاتے ہیں۔
یہ اڈہ بحرِ ہند کے وسط میں واقع چاگوز آرچی پلیگو کا حصہ ہے اور 1970 کی دہائی سے امریکا اور برطانیہ کے مشترکہ استعمال میں ہے۔