صدر ٹرمپ کی دھمکی کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز مکمل بند کرنے کا عندیہ

آبنائے ہرمز کو اس وقت تک نہیں کھولا جائے گا جب تک تباہ شدہ تنصیبات دوبارہ بحال نہیں ہو جاتیں: ایرانی فوج
شائع 22 مارچ 2026 11:23pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز نہ کھولنے پر ایران کو حملے کی دھمکی کے بعد ایرانی فوج نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز فی الحال مکمل بند نہیں، اگر ایسا اقدام کیا گیا تو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔

ایرانی فوج کے آپریشنل کمانڈ ہیڈ کوارٹر خاتم الانبیا نے سرکاری ٹی وی پر نشر بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کے پاور پلانٹس پر حملہ کیا تو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا اور اسے اس وقت تک نہیں کھولا جائے گا جب تک تباہ شدہ تنصیبات دوبارہ بحال نہیں ہو جاتیں۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے، جو 28 فروری کو شروع ہونے والی امریکا اسرائیل کارروائیوں کے بعد سے بند ہے۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ نہ صرف اسرائیل کے پاور پلانٹس بلکہ توانائی اور انفارمیشن و کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو بھی نشانہ بنائے گا۔ اس کے علاوہ ان علاقائی ممالک کے پاور پلانٹس پر بھی حملوں کا عندیہ دیا گیا ہے جہاں امریکی اڈے موجود ہیں یا امریکی کمپنیوں کی شراکت داری ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ تما اقدامات ملک کے دفاع اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کیے جائیں گے جب کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔

ادھر آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے، جنگ کے آغاز کے بعد سے تقریباً مفلوج ہو چکی ہے۔ تجزیاتی ادارے کے مطابق اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 5 فیصد رہ گئی ہے۔

ایرانی فورسز نے متعدد بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے انتباہات کے باوجود اس راستے سے گزرنے کی کوشش کی۔ حالیہ دنوں میں ایران نے کچھ دوست ممالک کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے جب کہ دیگر ممالک کے جہازوں کو روکنے کا عندیہ دیا ہے، جنہیں وہ اپنے خلاف کارروائی میں شامل قرار دیتا ہے۔

ایران کی پارلیمنٹ بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے پر غور کر رہی ہے جب کہ اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ سمندری آمد و رفت جنگ سے پہلے والی سطح پر واپس نہیں آئے گی۔

Read Comments