ٹرمپ تیل کی قیمتوں میں کمی کے لیے ایران سے مذاکرات چاہتے ہیں: سابق امریکی عہدیدار

صدر ٹرمپ جنگ کو قابو میں لانے کے لیے فوری اقدامات کرنا چاہتے ہیں: سابق امریکی نائب معاون وزیر خارجہ
اپ ڈیٹ 24 مارچ 2026 04:18pm

امریکا کے سابق نائب معاون وزیر خارجہ جوئل روبن نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے ساتھ مذاکرات بحال ہونے کا دعویٰ ممکنہ طور پر تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث عالمی مارکیٹس کو پرسکون کرنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتا ہے۔

جوئل روبن نے منگل کو امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر حیرت نہیں ہوگی اگر امریکا ایرانی حکام سے رابطے میں ہو، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے حقیقت میں کوئی بات چیت نہ ہو رہی ہو اور یہ صرف عالمی مارکیٹس کو سنبھالنے کا اشارہ دیا جا رہا ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اس بات سے آگاہ ہیں کہ پیٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں دباؤ بڑھ رہا ہے، اس لیے وہ اس صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے فوری اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔

اُدھر سابق امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کی مشیر جیسمین ایل جمال نے کہا ہے کہ ایران کو اس وقت امریکا پر زیادہ برتری حاصل ہو چکی ہے کیونکہ وہ پورے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے اور آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے جیسمین ایل جمال کا کہنا تھا کہ ایران نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے باعث وہ کسی بھی نئے مذاکرات میں زیادہ مضبوط حیثیت کے ساتھ داخل ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران ممکنہ طور پر مذاکرات میں سیکیورٹی ضمانتوں جیسے مطالبات سامنے رکھ سکتا ہے اور یہ بھی یقینی بنانا چاہتا ہے کہ اس کا نظام ایران کی سرزمین سے جڑا رہے۔ ان کے مطابق ایران کے پاس یہ صلاحیت بھی موجود ہے کہ اگر اسے اشتعال دلایا جائے تو وہ پورے خطے میں افراتفری پھیلا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل ایران کے توانائی انفراسٹرکچر پر حملے کی دھمکی دی تھی جس کے فوراً بعد تہران کے ساتھ نئی بات چیت کے آغاز کا دعویٰ کیا تھا، ساتھ ہی انہوں نے حملوں کو مؤخر کرنے کا اعلان بھی کر دیا تھا۔

پیر کو صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ دو روز سے جاری مذاکرات بڑے مثبت اور نتیجہ خیز رہے، مذاکرات کی بنیاد پر ایران کے جوہری اہداف کے خلاف فوجی کارروائی اگلے پانچ دن کے لیے مؤخر کر رہے ہیں۔

امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ تفصیلی اور تعمیری مذاکرات ایک ہفتے تک جاری رہیں گے۔ تاہم دوسری جانب سے ایران کی جانب سے صدر ٹرمپ کے ایران کے ساتھ مذاکرات کے دعووں کی تردید سامنے آئی۔

ایران ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی اور اس حوالے سے پھیلائی جانے والی خبریں سراسر جھوٹ ہیں۔

ایران کی جانب سے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔

دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے، جن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی شرکت متوقع ہے۔

Read Comments