عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہونے کے بعد پھر مہنگا، قیمت 100 ڈالر سے تجاوز
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے جلد خاتمے کی امیدیں کمزور پڑنے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں معمولی کمی کے بعد ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔
منگل کے روز اسرائیل اور ایران کے درمیان رات بھر ہونے والی جھڑپوں نے اس امید کو مزید کم کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت میں 1.6 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے بعد قیمت 101.5 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 2.7 فیصد اضافے کے ساتھ 90.5 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا ہے۔
پیر کے روز برینٹ کروڈ ایک موقع پر 114 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گیا تھا، تاہم بعد میں کمی کے بعد 99.94 ڈالر پر بند ہوا۔ گزشتہ روز تیل کی قیمتوں میں 10 فیصد سے زائد کمی آئی تھی۔
اس کمی کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ بیان تھا جس میں انہوں نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مثبت اور مفید بات چیت کا کا دعویٰ کیا تھا۔
تاہم ایران نے امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کی سختی سے تردید کی ہے، تاہم وہیں دونوں ممالک کے درمیان جنگ روکنے کے لیے پاکستان، ترکیہ اور مصر سمیت دیگر ممالک کی جانب سے ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔
دوسری جانب عالمی اسٹاک مارکیٹس میں منگل کو ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا، جہاں سرمایہ کار ایک طرف جنگ کے جلد خاتمے کی امیدوں اور دوسری جانب رات بھر ہونے والے حملوں کے اثرات کا جائزہ لیتے رہے۔
ایشیائی مارکیٹس میں سیول، ٹوکیو اور ہانگ کانگ میں پیر کے نقصانات کے بعد بہتری دیکھنے میں آئی۔
یورپ میں لندن، فرینکفرٹ اور پیرس کی بڑی مارکیٹس میں صبح کے وقت ملا جلا اور مجموعی طور پر مستحکم رجحان رہا، جبکہ امریکا میں فیوچر مارکیٹس بھی تقریباً فلیٹ رہیں۔
سرمایہ کاری کے ادارے ساکسو کے اسٹریٹجسٹ نیل ولسن نے اپنے نوٹ میں کہا کہ گزشتہ روز کی پُرامید فضا زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور آج اس کا تسلسل بھی نظر نہیں آ رہا۔