مجتبیٰ خامنہ ای امریکا سے مذاکرات پر راضی ہوگئے، اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ

ایران جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور پائیدار تجاویز سننے پر آمادہ ہے
اپ ڈیٹ 25 مارچ 2026 02:13pm

اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرنے اور کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

عرب میڈیا ادارے العربیہ نے اسرائیلی اخبار ’یدیوت احرونوت‘ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف کو خفیہ طور پر بتایا کہ ایران کے اعلیٰ رہنما نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی منظوری دی ہے تاکہ ممکنہ معاہدہ طے پایا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے شرائط کے مطابق مذاکرات پر آمادہ ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں، تاہم ایران نے اس کی تردید کی ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ بات چیت کسی ’اعلیٰ سطح کے فرد‘ کے ذریعے ہو رہی ہے، اگرچہ انہوں نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔

رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دی تھی، تاہم بعد ازاں انہوں نے ایرانی توانائی تنصیبات پر حملوں میں پانچ روز کی عارضی تاخیر کا اعلان کیا۔

ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ پانچ روز یا اس سے کم وقت میں ممکن ہو سکتا ہے، اور یہ کہ ایران معاہدہ چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملات مثبت سمت میں جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ایران کی جانب سے تاحال کسی بھی باضابطہ مذاکرات یا خفیہ رابطوں کی تصدیق نہیں کی گئی، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔

Read Comments