باہر کی گرمی اور آفس کا اے سی؛ کیا آپ کا جسم یہ دہرا جھٹکا برداشت کر پائے گا؟

چند احتیاطی تدابیر سے اس مسئلے کو کم کیا جا سکتا ہے.
شائع 25 مارچ 2026 02:29pm

موسمِ گرما کی تپتی دھوپ سے جیسے ہی ہم آفس کے ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں قدم رکھتے ہیں، ہمیں فوری سکون تو ملتا ہے، لیکن یہ اچانک تبدیلی ہمارے جسم کے لیے ایک خاموش خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق، باہر کی شدید تپش اور اندر کی ٹھنڈک کے درمیان بار بار کا سفر انسانی جسم کو ’ڈبل تھرمل شاک‘ میں مبتلا کر رہا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ماہرِ طب ڈاکٹر نمریتا سنگھ کا کہنا ہے کہ انسانی جسم اچانک تبدیلیوں کو پسند نہیں کرتا۔ جب ہم گرمی میں ہوتے ہیں، تو ہمارا جسم حرارت نکالنے کے لیے رگوں کو پھیلاتا ہے، لیکن اے سی کی ٹھنڈک میں جاتے ہی یہ رگیں اچانک سکڑ جاتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ، ’خون کی گردش میں یہ اچانک اتار چڑھاؤ سر درد، تھکاوٹ اور پٹھوں میں کھچاؤ کا باعث بنتا ہے۔ طویل مدت میں یہ عمل بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے بھی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔‘

اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ اے سی کی وجہ سے انہیں زکام ہو گیا ہے، لیکن ڈاکٹر نمریتا کے مطابق یہ ہمیشہ انفیکشن نہیں ہوتا۔

اے سی کی خشک ہوا سانس کی نالیوں میں چبھن پیدا کرتی ہے جس سے کھانسی، گلے میں خشکی اور چھینکیں آنے لگتی ہیں۔ اسے عام طور پر ’کامن کولڈ‘ سمجھ لیا جاتا ہے، جبکہ یہ دراصل درجہ حرارت کی تبدیلی پر جسم کا ردِعمل ہوتا ہے۔

گرمی میں پسینہ آنے سے جسم سے پانی کم ہوتا ہے، جبکہ اے سی والے ماحول میں جلد مزید خشک ہو جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں خارش، خشکی اور آنکھوں میں جلن جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹھنڈے ماحول میں پیاس کم لگتی ہے، جس سے لوگ کم پانی پیتے ہیں جو گردوں اور جلد کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔

اصل مسئلہ صرف گرمی یا ٹھنڈ نہیں بلکہ ان کے درمیان اچانک تبدیلی ہے۔ جسم کو آہستہ آہستہ بدلتے ماحول کے ساتھ ایڈجسٹ ہونے کا وقت نہیں ملتا، جس سے توانائی میں کمی اور ہلکی طبیعت کی خرابی محسوس ہو سکتی ہے۔

بچاؤ کے آسان طریقے

ماہرین کے مطابق چند سادہ احتیاطی تدابیر سے اس مسئلے کو کم کیا جا سکتا ہے:

اے سی کو ہمیشہ 24 سے 26 ڈگری سینٹی گریڈ پر رکھیں تاکہ جسم پر زیادہ بوجھ نہ پڑے۔

پیاس نہ بھی لگے تب بھی وقفے وقفے سے پانی پییں تاکہ ہائیڈریشن برقرار رہے۔

اے سی کی ٹھنڈی ہوا کے بالکل سامنے بیٹھنے سے گریز کریں۔

شدید دھوپ سے آ کر فوراً اے سی میں نہ جائیں۔ چند منٹ کسی سائے والی جگہ یا نارمل درجہ حرارت میں رکیں تاکہ جسم خود کو ماحول کے مطابق ڈھال سکے۔

باہر سے آ کر فوراً ٹھنڈے ماحول میں جانے کے بجائے کچھ وقت نارمل درجہ حرارت میں گزاریں۔

آپ کی روزمرہ کی تھکاوٹ اور سر درد کی وجہ شاید کام کا بوجھ نہیں، بلکہ درجہ حرارت کا یہ اتار چڑھاؤ ہے۔ تھوڑی سی احتیاط اور آگاہی سے نہ صرف ان تکالیف سے بچا جا سکتا ہے بلکہ گرمیوں میں مجموعی صحت کو بھی بہتر رکھا جا سکتا ہے۔

Read Comments