بحیرہ احمر میں ناکامی کے بعد آبنائے ہرمز کا چیلنج: کیا مغربی طاقتیں سمندری راستوں کا تحفظ کر پائیں گی؟

حوثیوں کے خلاف اربوں ڈالر خرچ کے باوجود ناکامی، ایران کے مقابلے میں صورتحال مزید پیچیدہ
شائع 25 مارچ 2026 03:17pm

مغربی طاقتوں کو توانائی کی ترسیل کے لیے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کے تحفظ میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، بحیرہ احمر میں حوثیوں کے خلاف مہنگی کارروائی بھی مطلوبہ نتائج نہ دے سکی۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق مغربی اتحادی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے حکمت عملی تیار کر رہے ہیں، تاہم ماضی کا تجربہ ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

بحیرہ احمر میں یمن کے حوثیوں کے خلاف کارروائیوں پر اربوں ڈالر خرچ کیے گئے، سیکڑوں ڈرون اور میزائل مار گرائے گئے، لیکن اس کے باوجود چار جہاز ڈبو دیے گئے اور تجارتی راستہ آج بھی بڑی حد تک غیر محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورتحال اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے، کیونکہ ایران ایک مضبوط فوجی طاقت رکھتا ہے، جس کے پاس جدید ڈرونز، بارودی سرنگیں اور میزائل موجود ہیں، جبکہ اس کی جغرافیائی پوزیشن بھی اسے برتری فراہم کرتی ہے۔

یہ آبی گزرگاہ دنیا کی سب سے اہم تجارتی راہداریوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے تقریباً 20 فیصد عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔

ایران کی جانب سے اس راستے کی بندش اور خلیجی ممالک میں توانائی تنصیبات پر حملوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو چکا ہے۔

کویت پیٹرولیم کے سربراہ شیخ نواف سعود الصباح نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا کوئی متبادل موجود نہیں اور یہ عالمی قوانین اور عملی طور پر پوری دنیا کی مشترکہ گزرگاہ ہے۔

اُدھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی اس معاملے پر غور جاری ہے، جہاں کچھ ممالک اس آبی راستے کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات، حتیٰ کہ طاقت کے استعمال کی حمایت کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری قافلوں کا تحفظ بحیرہ احمر کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہے، کیونکہ ایران کی عسکری صلاحیت اور جغرافیائی برتری اسے ایک طاقتور حریف بناتی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے پر واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔ ابتدا میں انہوں نے امریکی بحریہ کی جانب سے جہازوں کی حفاظت کا عندیہ دیا، تاہم بعد میں کہا کہ اس ذمہ داری میں دیگر ممالک کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے۔

رپورٹس کے مطابق 28 فروری سے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ میں جہازوں کی نقل و حرکت محدود کر دی ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر توانائی اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Read Comments