ایران جنگ کے بعد ایک نیا ورلڈ آرڈر؟
ایران جنگ نے دہائیوں سے چلتے آرہے پورے عالمی نظام یعنی ورلڈ آرڈر کو تہس نہس کردیا ہے۔ اب دنیا کا رُخ ہتھیاروں کی طاقت سے ہٹ کر مادی عوامل جیسے معدنیات، ٹیکنالوجی اور تجارتی راستوں کی جانب ہو گیا ہے۔ خود کو سُپر پاور کہنے والے امریکا پر اب یہ حقیقت واضح ہو رہی ہے کہ اتحادی اب محض ایک کال پر نہیں، بلکہ مشترکہ مفادات اور شراکت داری کو ترجیح دیتے ہیں۔
اس کی ایک مثال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سات ممالک سے آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کے اہم راستوں کے دفاع کے لیے اپنے جہاز بھیجنے کا مطالبہ ہے۔ جس پر ان کے اتحادیوں کا ردعمل انتہائی سست اور ہچکچاہٹ کا شکار رہا۔
ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے قانونی جواز پر بین الاقوامی بے یقینی غالباً ان ممالک کے لیے رکاوٹ بن رہی ہے کہ وہ پیٹرولیم کی روانی کے تحفظ کے لیے اپنی فوج کو خطرے میں ڈالیں۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریس کہہ چکے ہیں کہ ”یہ ہماری جنگ نہیں ہے؛ ہم نے اسے شروع نہیں کیا۔“
دوسری طرف ایران کے لیے اس کے دو طاقتور ترین شراکت دار چین اور روس بھی اس تنازع میں معمولی کردار ادا کر رہے ہیں۔ غزہ میں حماس نے ایران سے کہا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی خلیجی ممالک پر حملہ نہ کرے اور یہ کہ علاقائی ممالک کو ”اخوت کے رشتوں کو برقرار رکھنے“ کے لیے تعاون کرنا چاہیے۔
عراق میں ایران نواز شیعہ ملیشیا زیادہ تر خاموش ہیں اور اپنے منافع بخش تیل اور گیس کے کاروباروں کو بچانے کو ترجیح دے رہی ہیں۔
ایران کے ”مزاحمتی بلاک“ کا صرف ایک اہم حصہ، لبنان کی حزب اللہ، دوبارہ ایران کی مدد کے لیے اسرائیل پر حملے کر رہی ہے، جس کا خمیازہ لبنان کے ان شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے جو اسرائیلی جوابی کارروائی کا نشانہ بنے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی ماہر اونا ہیتھوے نے کارنیگے اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”دنیا میں زیادہ تر ممالک ایک دوسرے پر حملہ نہیں کرتے، اور یہی عالمی نظام کی اصل طاقت ہے، مگر موجودہ جنگ اس نظام کو کمزور کر رہی ہے۔“
یہ جنگ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس میں جنگ کے اصول بدلتے نظر آ رہے ہیں۔ توانائی کے مراکز، بجلی گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے عام شہریوں کی زندگی براہ راست متاثر ہو رہی ہے۔
انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے بانی چیف پراسیکیوٹر لوئی مورینو اوکیمپو نے برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”ایسی کارروائیاں جہاں ایک ریاست دوسرے کی خودمختاری کو نقصان پہنچاتی ہو، بین الاقوامی قانون کے تحت جارحیت کے زمرے میں آتی ہیں۔“
لوئی مورینو کے مطابق دنیا ایک اصولی نظام سے نکل کر شخصی فیصلوں کے نظام کی طرف جا رہی ہے، جو آنے والے وقت میں خطرناک ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی مؤقف اس سے مختلف ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز کا کہنا ہے کہ اگر کوئی ریاست اپنی تنصیبات کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرے تو وہ جائز ہدف بن سکتی ہیں۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کے قوانین کی تشریح پر بھی عالمی سطح پر اختلاف پایا جاتا ہے۔
امریکا کی قومی سلامتی سے وابستہ سابق افسر اور سیکیورٹی امور کے ماہر برائن کاٹولس کا کہنا ہے کہ ”یہ عالمی نظام کے لیے ایک نہایت نازک وقت ہے، جہاں یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ اب ہر ملک اپنی مرضی کر سکتا ہے۔“
اُن کے مطابق امریکا کو اپنے اتحادیوں کی مکمل حمایت نہ ملنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اعتماد میں کمی آرہی ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہر مائیکل کوگلمین نے بھی واشنگٹن میں ایک تھنک ٹینک گفتگو کے دوران کہا کہ ”ایران جنگ ایک وسیع جیوپولیٹیکل مقابلے میں بدل گئی ہے، جہاں صرف فوجی طاقت ہی نہیں بلکہ سفارت کاری اور معاشی دباؤ بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔“
ان کے مطابق یہ صورتحال مستقبل میں عالمی طاقتوں کے تعلقات کو نئی شکل دے سکتی ہے۔
اس کے علاوہ اس جنگ نے سفارت کاری کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔ جنگ کے بعد بالآخر امریکا مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کو تیار ہے۔ پاکستان اور دیگر ممالک کی جانب سے ثالثی کی کوششیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دنیا اب صرف طاقت کے ذریعے مسائل حل کرنے کے بجائے مذاکرات کو بھی اہمیت دے رہی ہے۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ”بات چیت ہمیشہ جنگ سے بہتر ہوتی ہے اور تمام فریقین کو امن کے مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔“
چینی نژاد کینیڈین پروفیسر جیانگ ژیچن نے امریکی پوڈکاسٹر ٹکر کارلسن کو دیے گئے ایک انٹوریو میں کہا کہ چین کی تجارتی جنگ، یوکرین کی جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کی یہ جنگ، سب آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔
انہوں نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو میں روس، چین اور ایران سمیت سب کو ایک میز پر بٹھاتا اور کہتا کہ اب ایک ایسے ’نیو ورلڈ آرڈر‘ کا وقت آ گیا ہے جہاں ہم سب شراکت دار ہوں۔ ایک ایسی گفتگو کا آغاز ہو جہاں ہر ایک کا احترام ہو، جہاں امریکا اب کوئی بدمعاش نہیں بلکہ ایک ایسا ساتھی ہو جو ایک ایسا نیا معاشی نظام بنائے جس سے چند لوگوں کے بجائے سب کا فائدہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ ”اسرائیل کی اندرونی صورتحال دیکھیں تو وہاں اب منطقی طور پر کام نہیں ہو رہا۔ وہاں ایک طرح کا مذہبی جنون طاری ہو چکا ہے۔ اسرائیل سے آنے والی ویڈیوز میں ربی (مذہبی پیشوا) یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کی یہ جنگ، چاہے تل ابیب کو تباہ ہی کیوں نہ کر دے، ہمارے لیے اچھی ہے کیونکہ یہ ہمارے ’مسیحا‘ کی آمد کا راستہ ہموار کرے گی۔“
مجموعی طور پر یہ جنگ ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں دنیا کا پرانا نظام، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہوا تھا، کمزور پڑتا نظر آرہا ہے۔
ایران جنگ عالمی نظام میں بڑی تبدیلیوں کا سبب بن رہی ہے۔ طاقت کا توازن بدل رہا ہے، نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں اور معیشت سے لے کر سیکیورٹی تک ہر شعبہ متاثر ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ کشیدگی جلد ختم نہ ہوئی تو دنیا ایک نئے عالمی نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے، جس میں طاقت اور اثر و رسوخ کی تقسیم پہلے سے مختلف ہوگی۔
اب سوال یہ ہے کہ آیا دنیا نئے اصولوں کے ساتھ ایک نیا عالمی نظام تشکیل دے گی یا موجودہ بے یقینی مزید تنازعات کو جنم دے گی۔
