حمزہ علی عباسی کی رشتہ ایپ سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں

شو بز جوڑا ایک کامیاب ازدواجی زندگی گزار رہا ہے۔
شائع 26 مارچ 2026 09:57am

معروف اداکار حمزہ علی عباسی اور ان کی اہلیہ نیمل خاور کی جانب سے متعارف کروائی گئی نئی رشتہ ایپ ’میرج فار لائف‘ سوشل میڈیا پر بحث اور تنقید کا موضوع بن گئی ہے۔

پاکستان میں جہاں جیون ساتھی کی تلاش کسی مہم جوئی سے کم نہیں، وہیں شوبز انڈسٹری کی ہر دلعزیز جوڑی حمزہ علی عباسی اور نیمل خوار نے اس مشکل کو حل کرنے کے لیے ایک نیا قدم اٹھایا ہے۔

یہ ایپ ایسے افراد کیلئے تیار کی گئی ہے جو اسلامی اصولوں کے مطابق شادی کرنا چاہتے ہیں۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے صارفین نہ صرف اپنا رشتہ تلاش کر سکتے ہیں بلکہ انہیں پری اور پوسٹ میرج کونسلنگ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔

حمزہ علی عباسی کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک عام ایپ نہیں ہے بلکہ ایک مکمل نظام ہے۔

حمزہ علی عباسی کے مطابق اس ایپ کی خاص بات اس کا ’ولی فیچر‘ ہے، جس کے ذریعے والدین یا سرپرست بچوں کی گفتگو کو مانیٹر کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اے آئی سسٹم بھی شامل کیا گیا ہے جو نامناسب الفاظ کی نشاندہی کر کے والدین کو آگاہ کرتا ہے۔

ایپ میں تفصیلی بائیو ڈیٹا سسٹم اور زمینی سطح پر موجود ٹیمیں بھی شامل ہیں جو صارفین کی معلومات کی تصدیق کریں گی تاکہ دھوکہ دہی کا امکان ختم ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک میں اس کے دفاتر قائم کیے گئے ہیں، جنہیں مزید وسعت دینے کا منصوبہ بھی بنایا جا رہا ہے۔

تاہم اس اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر جہاں کچھ لوگ اس اقدام کو سراہ رہے ہیں، وہی انٹرنیٹ صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اسے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک نیا کاروباری ماڈل قرار دیا۔

حمزہ اور نیمل، جو خود ایک کامیاب ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ انہیں یہ خیال اس وقت آیا جب لوگ ان سے رشتوں کے لیے مشورے مانگتے تھے۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ ’ولی‘ فیچر پرانی روایات کو ڈیجیٹل شکل دینے جیسا ہے، جہاں لڑکا اور لڑکی بڑوں کے سامنے بیٹھ کر بات کرتے تھے۔

جہاں یہ ایپ کچھ لوگوں کیلئے امید کی کرن بنی ہے، وہیں اس نے ایک نئی بحث کو بھی جنم دیا ہے کہ جدید دور میں رشتہ تلاش کرنے کے طریقے کیسے ہونے چاہئیں۔

Read Comments