بھارتی گلوکار زوبین گرگ کی موت پر سنگاپور عدالت کا بڑا فیصلہ
سنگاپور کی عدالت نے بھارتی گلوکار زوبین گارگ کی موت سے متعلق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اہم اعلان کیا ہے۔ عدالت نے تصدیق کی ہے کہ زوبین گارگ کی موت ڈوبنے سے ہوئی اور اس میں کسی قسم کے جرم یا قتل کے شواہد نہیں پائے گئے۔
زوبین گارگ 19 ستمبر 2025 کو سنگاپور کے ساحل کے قریب ایک نجی یاٹ پر گئے تھے، جہاں وہ سمندر میں نہاتے ہوئے ڈوب کر جان کی بازی ہار گئے تھے۔۔
سنگاپور پولیس کوسٹ گارڈ کی تحقیقات کے مطابق حادثے میں کوئی بھی شخص گارگ کو پانی میں دھکیلنے یا ان پر دباؤ ڈالنے میں ملوث نہیں تھا۔
رپورٹ کے مطابق یاٹ پر سوار ہونے سے قبل ہی گلوکار نشے کی حالت میں تھے اور ان کے دوستوں نے انہیں سہارا دے کر کشتی پر سوار کرایا تھا۔
دورانِ سفر جب انہوں نے سمندر میں چھلانگ لگائی تو پہلے ایک لائف جیکٹ پہنی تھی، لیکن سائز بڑا ہونے کی وجہ سے اسے اتار دیا۔
دوبارہ پانی میں اترنے سے پہلے جب انہیں چھوٹی اور درست سائز کی لائف جیکٹ دی گئی، تو انہوں نے اسے پہننے سے صاف انکار کر دیا۔
سی سی ٹی وی فوٹیج اور گواہوں کے مطابق زبین گارگ تیراکی کے دوران کافی تھکے ہوئے دکھائی دے رہے تھے اور ان کے ہاتھ پاؤں مارنے کا انداز ایک تھکے ہوئے انسان جیسا تھا۔
سنگاپور کے کورونر افسر آدم نخودا نے کیس کی سماعت کے بعد یہ نتیجہ دیا کہ زوبین گارگ کی موت صرف ڈوبنے کی وجہ سے ہوئی اور اس میں کوئی سازش یا غیر قانونی مداخلت شامل نہیں تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو افراد بچانے کی کوشش کر رہے تھے، ان پر بھی جان بوجھ کر دباؤ ڈالنے یا چہرہ پانی میں رکھنے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔
یاد رہے کہ زبین گارگ کی موت کے بعد آسام میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی اور مداحوں نے ان کے مینیجر کے گھر پر حملہ بھی کیا تھا۔
بھارتی تحقیقاتی اداروں نے سنگاپور میں مقیم ایونٹ آرگنائزر شیام کانو مہانتا اور گلوکار کے تین دیگر ساتھیوں پر ”قتل“ کے الزامات عائد کیے تھے، تاہم سنگاپور کی عدالت نے ان تمام مفروضوں کو مسترد کرتے ہوئے اسے خالصتاً ایک حادثہ قرار دے دیا ہے۔
زوبین گارگ کی اہلیہ، گرما سائیکیا گارگ، نے پہلے خدشات ظاہر کیے تھے کہ ان کے شوہر کی موت میں کوئی سازش شامل ہو سکتی ہے، لیکن پولیس کی تحقیقات کے بعد یہ شبہات ختم ہو گئے ہیں۔