پرفارمنس کے دوران روبوٹ نے اچانک بچے کو تھپڑ جڑ دیا
چین کے صوبے شانشی میں ایک ٹیکنالوجی شو کے دوران ایک غیر متوقع اور حیران کن واقعہ پیش آیا، جہاں رقص کا مظاہرہ کرنے والے ایک ہیومینائڈ روبوٹ نے وہاں موجود ایک معصوم بچے کے چہرے پر تھپڑ جڑ دیا۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جدید ٹیکنالوجی سے لیس ایک انسان نما (ہیومینائڈ) روبوٹ اسٹیج پر اپنے رقص کی مہارت کا مظاہرہ کر رہا تھا۔
برطانوی اخبار ’ڈیلی میل‘ کی رپورٹ کے مطابق رقص کے دوران جب روبوٹ نے تیزی سے اپنے بازو گھمائے، تو قریب کھڑا ایک بچہ اس کی زد میں آ گیا۔
روبوٹ کی موومنٹ کے ساتھ ہی بچے نے پیچھے ہٹ کر بچنے کی کوشش کی، لیکن روبوٹ کی حرکات اتنی تیز تھیں کہ اس کا سخت ہاتھ براہ راست بچے کے منہ پر لگا۔ خوش قسمتی سے کسی بڑے جسمانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم وہاں موجود تماشائی اس غیر متوقع ردعمل کو دیکھ کر ششدر رہ گئے۔
جس روبوٹ سے یہ حرکت سرزد ہوئی وہ ”یونی ٹری جی ون“ ماڈل ہے، جس کا وزن تقریباً 35 کلوگرام اور قد 1.32 میٹر ہے۔ اس میں حرکت کرنے کے 23 مختلف جوڑ اور جدید ترین سینسنگ سسٹم نصب ہے، اور یہ روبوٹ لیڈار ٹیکنالوجی اور تھری ڈی کیمروں سے لیس ہے، جسے انسانی حرکات کی نقل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم ابھی ایسی ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال سے کافی دور ہیں، کیونکہ روبوٹ کی حرکات غیر متوقع ہو سکتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے طنزیہ تبصرے کیے، جبکہ کچھ نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ روبوٹس کے قریب بچوں کی نگرانی خود کریں۔
ٹیکنالوجی شو کی انتظامیہ نے واقعے کے فوراً بعد روبوٹ کو قابو میں کر کے حاضرین سے دور ہٹا دیا تاکہ مزید کسی نقصان سے بچا جا سکے۔
یہ واقعہ اے آئی اور روبوٹکس کی دنیا میں حفاظتی اقدامات کے حوالے سے ایک نئی بحث کا آغاز کر رہا ہے، خصوصاً عوامی مقامات پر ان مشینوں کے استعمال کے متعلق سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر صارفین اس واقعے کو مضحکہ خیز قرار دینے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ایسی مشینوں کے گرد بچوں کی حفاظت کے حوالے سے تشویش کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔
تاہم، حالیہ ریکارڈز بتاتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی اب بھی مکمل طور پر قابلِ بھروسہ نہیں ہے۔ گزشتہ برس بھی ایک ایسی ویڈیو منظرِ عام پر آئی تھی جس میں ایک روبوٹ کو اچانک ایک انسان پر لات مارتے ہوئے دیکھا گیا۔ اسی طرح ایک اور تکنیکی ناکامی کے دوران، جب ایک روبوٹ نے کھانا پکانے کی کوشش کی، تو وہ نہ صرف باورچی خانے میں گندگی پھیلانے کا باعث بنا بلکہ توازن کھو کر فرش پر بھی پھسل گیا تھا۔
یہ تمام واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی یہ مشینیں اب بھی تجرباتی مراحل میں ہیں۔ انسانی ماحول، خصوصاً بچوں کی موجودگی میں ان کا آزادانہ استعمال کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے، جس کے لیے مزید بہتر حفاظتی پروٹوکولزکی ضرورت ہے۔