ایران کا اسرائیل میں آئل اسٹوریج اور اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے ’’آپریشن وعدہ صادق 4‘‘ کی 83ویں لہر کے تحت امریکا اور اسرائیل کے اہم فوجی و اسٹریٹجک اہداف پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جسے ایران نے جوابی کارروائی قرار دیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ’’پریس ٹی وی‘‘ کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے جمعہ کی علی الصبح اعلان کیا کہ ’’آپریشن ٹرو پرومس 4‘ کی 83ویں لہر کے دوران خطے میں موجود امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
آئی آر جی سی کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق اس کارروائی کو ’’یا ابا عبداللہ الحسینؑ‘‘ کے کوڈ کے تحت انجام دیا گیا اور اسے جنوبی علاقوں کے عوام کے نام منسوب کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں میں اسرائیل کے شہر اشدود میں آئل ڈپو اور اسٹوریج ٹینکس، موڈیعین کے علاقے میں فوجی اہلکاروں کی تنصیب، اور خطے میں امریکی فوجی انفارمیشن ایکسچینج سینٹر کو نشانہ بنایا گیا۔
اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں واقع امریکی اڈہ الظفرہ اور دیگر فوجی تنصیبات، کویت میں علی السالم ایئر بیس پر طیاروں اور ڈرونز کے ہینگرز، جبکہ شیخ عیسیٰ بیس پر پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی مرمت گاہ کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اس آپریشن میں جدید ہتھیار استعمال کیے گئے، جن میں طویل اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل، ٹھوس و مائع ایندھن والے سسٹمز، ملٹی وار ہیڈ اور خودکش و لوئٹرنگ ڈرونز شامل ہیں۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ حملے’’اللہ کے فضل سے مکمل کامیابی‘‘ کے ساتھ انجام دیے گئے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ ان حملوں کے باعث اسرائیل میں معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں اور شہری مسلسل سائرن اور پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
بیان کے اختتام پر سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’’ہم تمہیں تلاش کر لیں گے اور تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔‘‘
ایرانی حکام کے مطابق اب تک اس آپریشن کے تحت 83 حملوں کی لہریں جاری کی جا چکی ہیں، جن میں اسرائیلی فوجی تنصیبات اور خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
یہ کارروائیاں 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع کی گئیں، جن میں ایرانی سپریم لیڈرعلی خامنہ ای سمیت اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور دیگر افراد جاں بحق ہوئے۔
دریں اثنا لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ اور عراق کی مزاحمتی فورسز نے بھی ایران کے ساتھ مل کر کارروائیوں میں حصہ لینے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی کے مطابق امریکی اہلکار اب فوجی اڈوں کے بجائے ہوٹلوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں، جسے انہوں نے امریکا کی ’’کمزوری اور پسپائی‘‘ قرار دیا۔
اُدھر ایرانی فوج نے اسرائیل کے اہم شہر حیفہ کی بندرگاہ کو بھی ڈرون حملوں میں نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جہاں بحریہ سے متعلق تنصیبات اور جنگی طیاروں کے لیے ایندھن ذخیرہ کرنے کی سہولیات کو نقصان پہنچنے کا کہا گیا ہے۔