اسرائیلیوں کو بدترین قرار دینے کے الزام میں برطانوی خاتون ڈاکٹر گرفتار

ڈاکٹر رحمہ نے اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے برطانوی طبی اداروں کو مخصوص لابیوں کے زیرِ اثر قرار دیا۔
اپ ڈیٹ 27 مارچ 2026 12:51pm

برطانوی پولیس نے نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) سے وابستہ ایک خاتون ڈاکٹر، رحمہ علادوان کو اسرائیلیوں کے خلاف زبان استعمال کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کر لیا ہے۔

بی بی سی نیوز کے مطابق 31 سالہ فلسطینی نژاد برطانوی ڈاکٹر کو جنوبی گلوسٹر شائرمیں واقع ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر رحمہ پر حماس کی حمایت کے لیے لوگوں کو اکسانے کے مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ الزامات 23 جولائی سے 31 دسمبر 2025 کے درمیان سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ پر پوسٹ کیے گئے مواد اور تبصروں سے متعلق ہیں۔

اس کے علاوہ ان پر پبلک آرڈر ایکٹ 1986 کی خلاف ورزی کا بھی الزام ہے، جس کے تحت انہوں نے ایسا تحریری مواد شائع کیا یا ایسی گفتگو کی جو دھمکی آمیز اور اشتعال انگیز تھی، جس کا مقصد نسلی منافرت کو فروغ دینا تھا۔

جبکہ اسرائیلی خبر رساں نیوز ویب سائٹ ”وائی نیٹ نیوز“ کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر رحمہ علادوان پر چھ الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر 7 اکتوبر کے واقعات کا جشن منایا، اسرائیلیوں کو ”نازیوں سے بدتر“ قرار دیا اور حماس کے جنگجوؤں کو ”مزاحمتی مجاہد“ اور ”شہدا“ کہا۔

خبر میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال نومبر میں برطانوی طبی ٹربیونل نے انہیں 15 ماہ کے لیے معطل کر دیا تھا۔ ٹربیونل کا موقف تھا کہ ان کی پوسٹس سے ڈاکٹر اور مریض کے درمیان اعتماد کا رشتہ متاثر ہو سکتا ہے، خاص طور پر یہودی مریض ان سے علاج کروانے میں ہچکچاہٹ محسوس کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر رحمہ نے اس معطلی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ برطانیہ میں طبی ادارے آزاد نہیں بلکہ مخصوص لابیوں کے زیرِ اثر ہیں۔

وائی نیٹ نیوزکے مطابق پولیس کی حالیہ کارروائی ان کی جانب سے ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی اور اشتعال انگیز مواد کی تشہیر کے بعد عمل میں آئی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ برطانیہ کی وزارتِ صحت اب ایسے قوانین پر غور کر رہی ہے جس کے تحت سوشل میڈیا پر اس طرح کا مواد شیئر کرنے والے ڈاکٹروں کے لائسنس منسوخ کیے جا سکیں گے۔ ڈاکٹر رحمہ کا کیس اس وقت برطانیہ میں طبی اخلاقیات اور آزادیِ اظہار کے حوالے سے ایک اہم قانونی رخ اختیار کر چکا ہے۔

گرفتاری کے بعد انہیں وسطی لندن کے ایک پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا ہے، جہاں سے انہیں جمعہ کے روز ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔ عدالت میں پیشی تک وہ پولیس کی تحویل میں رہیں گی۔

Read Comments