آبنائے ہرمز کا کنٹرول، امریکا کے مقابلے میں ایران کو کیوں برتری حاصل ہے؟
ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز گزشتہ چار ہفتوں سے بند ہے جس کے باعث دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
یہ راستہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کے علاوہ کھیتوں کے لیے بھی استعمال ہونے والے کھاد کی ترسیل کا مرکزی ذریعہ ہے۔
توانائی بحران کے بڑھنے کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بلاک کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ہزاروں مزید امریکی فوجیوں کو مشرقِ وسطیٰ بھیجنے اور آئل ٹینکرز کے لیے نیوی اسکورٹس کے امکانات پر غور کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق اس تمام صورتحال میں ایران اب بھی کئی حوالوں سے برتری رکھتا ہے۔ اس کی کامیابی کی وجوہات میں سستے ڈرونز، سمندری بارودی سرنگیں، اور جغرافیائی صورتحال شامل ہیں۔
ہرمز کا راستہ سب سے تنگ مقام پر صرف 24 میل چوڑا ہے، اور زیادہ تر جہاز دو مرکزی شپنگ لائنوں سے گزرتے ہیں، جو مزید محدود ہیں۔
سینئر فیلو برائے نیول فورسز اینڈ میریٹائم سیکیورٹی نک چائلڈز کا کہنا ہے کہ یہ مقام واقعی ایک چوک پوائنٹ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ دنیا میں بہت سے چوک پوائنٹس ہیں، لیکن یہ اپنی نوعیت میں منفرد ہے کیونکہ کوئی اس کا کوئی متبادل راستہ موجود نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس محدود گزرگاہ کے سبب جہازوں کے لیے موڑنے یا راستہ بدلنے کا کوئی اختیار موجود نہیں ہوتا، جس کے باعث ایران کے لیے ہدف بنانا آسان ہوتا ہے۔
امریکی تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے ایڈیٹر کیون رولینڈز کا کہنا ہے کہ یہ ایک قاتل علاقہ ہے جہاں حملے کی اطلاع کے لیے صرف چند سیکنڈز دستیاب ہوتے ہیں۔
ایران کے تقریباً 1 ہزار میل طویل ساحلی علاقے سے اینٹی شپ میزائل حملے کیے جا سکتے ہیں، اور موبائل میزائل بیٹریاں انہیں ختم کرنا مشکل بناتی ہیں۔ شمالی ایرانی ساحل پہاڑوں، وادیوں، بستیوں اور جزائر سے گھرا ہوا ہے، جو ایران کو موبائل ہتھیار چھپانے میں مدد دیتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے حملہ آور نظام کے باعث تجارتی جہازوں پر خطرات موجود ہیں۔ ایران کی جانب سے اب بھی سب سے بڑا خطرہ غیر روایتی ہتھیاروں جیسے ڈرونز، چھوٹے تیز رفتار جہاز اور خودکار بم سے بھری چھوٹی کشتیاں ہیں۔
امریکی اتحادی، بشمول برطانیہ، فرانس اور بحرین، بھی آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی شپنگ کی حفاظت کے لیے منصوبے تیار کر رہے ہیں۔
ایران نے ہرمز کے تنگ راستے، خلیج فارس اور خلیج عمان میں کم از کم 19 جہازوں پر حملے کیے ہیں۔
ایران نے کہا ہے کہ غیر دشمن جہاز اگر ایرانی حکام کے ساتھ رابطہ کریں تو راستے سے گزر سکتے ہیں۔
لوئڈز لسٹ انٹیلیجنس کے مطابق کم از کم 16 جہاز راستہ عبور کر چکے ہیں، جن میں ایک نے تقریباً 2 ملین ڈالر کی فیس ادا کی ہے، جبکہ کچھ ٹینکرز نے غیر حقیقی شناخت کا استعمال کیا۔
اگر تمام ٹینکر ٹریفک بحال بھی ہو جائے، تو بیک لاگ صاف ہونے میں وقت لگے گا کیونکہ بین الاقوامی میرین آرگنائزیشن کے مطابق تقریباً 2 ہزار جہاز خلیج فارس میں پھنسے ہوئے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے سفارتی پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے، مگر ایران کا کہنا ہے کہ وہ امریکی مذاکرات کا حصہ نہیں ہے، اگرچہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔
ٹرمپ نے مزید دھمکی دی ہے کہ اگر ایران ہرمز کی بندش جاری رکھے گا تو امریکی فوج ایران کے تیل سے متعلق مزید مقامات پر حملہ کر سکتی ہے۔