امریکی نائب صدر کا بڑا امتحان، ایران جنگ ختم کرانے کی ذمہ داری مل گئی: امریکی میڈیا

جے ڈی وینس نے نیتن یاہو کو ایران جنگ سے متعلق غلط اندازے لگانے پر کھری کھری سنا دی تھیں: امریکی ویب سائٹ کا دعوٰی
شائع 27 مارچ 2026 06:56pm

امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ رکوانے کا ٹاسک اب نائب صدر جے ڈی وینس کو سونپنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسے جے ڈی وینس کے سیاسی کیریئر کا اہم ترین اسائمنٹ قرار دیا جارہا ہے، کیوں کہ وہ ری پبلکن پارٹی میں 2028 کے صدارتی امیدوار کے طور پر سب سے مضبوط نام سمجھے جاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی لابی ایران جنگ کی مخالفت کی وجہ سے ان کے خلاف سرگرم ہے۔

امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ مذاکرات کے لیے نائب صدر جے ڈی وینس کو اہم ذمہ داری دینے کی تیاری شروع کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق جے ڈی وینس نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے متعدد بار بات چیت کی ہے، جبکہ خلیجی اتحادیوں سے بھی ان کی کئی ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ایران کے ساتھ بالواسطہ رابطوں میں بھی شامل رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگ سے قبل جے ڈی وینس ان چند افراد میں شامل تھے جو ایران سے جنگ پر اعتراضات رکھتے تھے، تاہم جنگ شروع ہونے کے بعد وہ اس فیصلے کی حمایت میں کھڑے ہیں۔

ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکی نائب صدر اور نیتن یاہو کے درمیان سخت ٹیلیفونک گفتگو بھی ہوئی ہے۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق جے ڈی وینس نے ٹیلی فونک گفتگو میں بنجمن نیتن یاہو کو کھری کھری سناتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملوں سے قبل ان کے لگائے گئے اندازے درست ثابت نہیں ہوئے۔

انہوں نے جنگ سے متعلق اسرائیلی اندازوں کو خوش فہمی قرار دیا اور حملوں کے بعد ایرانی حکومت کے گرنے اور عوامی بغاوت کے دعوؤں پر بھی سخت تنقید کی۔

بعد ازاں ایک اسرائیلی اخبار میں یہ خبر بھی شائع ہوئی کہ جے ڈی وینس ایران جنگ نہیں بلکہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے مقامی لوگوں پر تشدد کے معاملے پر نیتن یاہو پر برہم ہوئے تھے، تاہم امریکی اور اسرائیلی ذرائع نے اس خبر کو غلط قرار دیا۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کے بعض سخت گیر حلقے جے ڈی وینس کے نرم رویے سے خوش نہیں ہیں اور وہ ایران پر صرف فوجی دباؤ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جے ڈی وینس کے کردار کو متنازع بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کابینہ اجلاس کے دوران جے ڈی وینس سے ایران سے متعلق معاملات پر بریفنگ طلب کی اور بتایا کہ مذاکراتی عمل میں وہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے ساتھ مصروف ہیں۔

وائٹ ہاؤس حکام کا کہنا ہے کہ جے ڈی وینس کی انتظامیہ میں سینیارٹی اور جنگوں کی مخالفت انہیں ایرانی قیادت کے لیے نسبتاً قابل قبول مذاکرات کار بناتی ہے۔ اسی بنیاد پر اسٹیو وٹکوف نے بھی انہیں مرکزی مذاکرات کار بنانے کی سفارش کی۔ ایک سینئر عہدیدار کے مطابق اگر ایران جے ڈی وینس کے ساتھ معاہدہ سے انکار کرتا ہے تو پھر کسی معاہدے کا امکان نہیں۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ان خبروں کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور ایران کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کب اور کیسے مذاکرات کی میز پر آنا چاہتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان، مصر اور ترکیہ بطور ثالث براہ راست مذاکرات کروانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ایرانی حکام نے ثالثوں کو بتایا ہے کہ وہ اعلیٰ قیادت کی منظوری کے منتظر ہیں۔ اگر ملاقات ہوتی ہے تو مذاکرات کی میز پر جے ڈی وینس کا ممکنہ طور پر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف سے سامنا ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جے ڈی وینس ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے اور پائیدار امن معاہدہ کروانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو 2028 میں وائٹ ہاؤس کا راستہ ان کے لیے بہت آسان ہو جائے گا۔ دوسری جانب اگر مذاکرات ناکام ہوئے تب بھی اس کی تمام تر ذمہ داری جے ڈی وینس پر ڈالی جا سکتی ہے، جس سے صدارتی مہم میں ان کی پوزیشن کمزور ہو جائے گی۔

Read Comments