پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار، وزیراعظم نے اضافے کی تجویز مسترد کر دی

مجھے پیٹرول پر 95 اور ڈیزل پر 203 روپے اضافہ کی تجویز دی گئی، وزیراعظم شہباز شریف کا قوم سے خطاب
اپ ڈیٹ 27 مارچ 2026 10:47pm

وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کردیا، انھوں نے خطاب میں کہا کہ مجھے پیٹرول پر 95 اور ڈیزل پر 203 روپے اضافہ کی تجویز دی گئی۔

وزیراعظم نے ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے قیمتوں میں اضافے کی تجویز مسترد کر دی۔ انھوں نے کہا کہ پیٹرول کی موجودہ قیمت 322 روپے فی لیٹر ہے، حالانکہ اصل قیمت 544 روپے ہو سکتی تھی، جب کہ ڈیزل کی قیمت 335 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، حالانکہ مارکیٹ قیمت 790 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت 56 ارب روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرے گی اور گزشتہ تین ہفتوں میں 125 ارب روپے کا تاریخی بوجھ اٹھایا جا چکا ہے تاکہ عوام کے کندھوں پر مالی دباؤ نہ پڑے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں عوام کے معاشی تحفظ سے زیادہ کچھ عزیز نہیں۔

انھوں نے کہا کہ کفایت شعاری ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، دنیا بھرمیں پیٹرول کی قلت اور قیمتیں بڑھ چکی ہیں، ہم نے محدود وسائل کے باوجود مہنگائی کے طوفان کو روکا، پوری قوم سے اپیل ہے کہ حکومت کا مکمل ساتھ دے، حکومتی منصوبے کا اعلان چند دنوں میں کیا جائے گا، عوام کے تعاون سے طوفان سے سرخرو ہو کر نکلیں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا کہ پاکستان اس وقت دو محازوں پر کردار ادا کر رہا ہے۔ ایک طرف قومی مفادات کا تحفظ ہے اور دوسری طرف امن کے قیام کے لیے ملک متحرک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان ثالثی کی بھرپور کوششیں کر رہا ہے تاکہ برادر اسلامی ممالک تباہ کن جنگ سے بچ سکیں اور یہ سفارتی اقدامات امت مسلمہ کے بہترین مفاد کے لیے ہیں نہ کہ صرف بین الاقوامی ذمہ داری کے تحت۔

انھوں نے کہا کہ ہم ایک خدا، رسولِ اللہ اور قرآن پر ایمان رکھتے ہیں اور ہر مکتبہ فکر کے مسلمان دل میں امن کی تمنا رکھتے ہیں۔ انہوں نے متعدد بار ایران اور خلیجی ممالک کے سربراہان سے بات چیت کی ہے، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر مفاہمتی عمل میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے ان کی کامیابی کے لیے عوام سے دعا کی اپیل کی۔

شہباز شریف نے عالمی معاشی بحران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی بڑی معیشتیں بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہیں، اور پاکستان پر پڑنے والے معاشی بوجھ کا اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا۔ تاہم حکومت نے پہلے ہی تیاری کر لی تھی، ترقیاتی منصوبوں کے بجٹ میں 100 ارب کی کٹوتی کی اور سادگی کی مہم کے ذریعے اربوں روپے عوام کے لیے بچائے گئے۔

انہوں نے واضح کیا کہ آج جب عوام پیٹرول خریدتے ہیں تو ہر لیٹر کے پیچھے حکومت کی بجٹ پالیسیوں اور احساس ذمہ داری کی جھلک ہوتی ہے۔ اس ہفتے حکومت نے پیٹرول پر 95 اور ڈیزل پر 203 روپے اضافے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے وفاقی حکومت خود اس بوجھ کو اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

Read Comments