یمن کے حوثی ایران جنگ میں شامل، اسرائیل کے لیے نیا محاذ کھل گیا
یمن کے ایران سے ہم آہنگ حوثی باغیوں نے ہفتے کو پہلی بار اسرائیل پر میزائل حملہ داغا ہے، جس سے اسرائیل اور امریکا کے ساتھ جاری ایران جنگ میں ان کی براہِ راست شمولیت سامنے آگئی ہے۔ یمن کے حوثی فوجی ترجمان یحیی ساری نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ گروپ نے اسرائیل کے خلاف اپنا پہلا فوجی حملہ کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیل نے پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ یمن سے داغا گیا میزائل ناکارہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ حوثی گروپ نے بتایا کہ یہ حملہ متعدد میزائلوں کی شکل میں کیا گیا اور اس کی وجہ ایران، لبنان، عراق اور فلسطینی علاقوں میں جاری بنیادی ڈھانچے پر حملے تھے۔
حوثیوں نے واضح کیا کہ ان کے آپریشن جاری رہیں گے اور وہ تب تک ختم نہیں ہوں گے جب تک تمام محاذوں پر جاری جارحیت ختم نہیں ہو جاتی۔
اُدھر اسرائیل نے بھی اعلان کیا کہ اس نے یمن سے داغے گئے ایک میزائل کا پتہ لگایا اور اسے اپنی سرحدوں کے باہر ہی ناکارہ بنایا۔ یہ واقعہ اس جنگ میں یمن کی پہلی براہِ راست مداخلت کے طور پر دیکھا گیا ہے، جو ایران، اسرائیل اور لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے درمیان جاری تصادم میں ایک نئے محاذ کا اضافہ ہے۔
الجزیرہ کے مطابق اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب یمن جنگ میں شامل ہوا ہے۔ پہلے یمن نے غزہ کی جنگ کے دوران فلسطینیوں کی حمایت اور اسرائیل پر دباؤ بڑھانے کے لیے میزائل داغے تھے، لیکن اکتوبر 2025 میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد یہ حملے بند ہو گئے تھے۔
اس پیش رفت کے بعد اب یہ تیسرا محاذ کھل گیا ہے، جہاں اسرائیل ایران کے خلاف جنگ اور جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف آپریشنز کے ساتھ ساتھ یمن کی جانب سے بھی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔
سابق اسرائیلی فوجی حکام کے مطابق یہ اقدام حوثی گروپ کی جانب سے ایران کی حمایت میں دباؤ بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو امریکا کے ساتھ جاری خفیہ مذاکرات میں ایران کی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتا ہے۔
اسرائیلی فوج اور چیف آف اسٹاف کی طرف سے خدشات ظاہر کیے جا چکے ہیں کہ فوج میں تھکن اور دباؤ بڑھ رہا ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں زمینی حملہ اور قبضہ فوج کے لیے مہنگا پڑ سکتا ہے۔
یمن کی جانب سے میزائل حملے کی تصدیق ہونے کی صورت میں اس خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر دیگر ممالک امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ میں شامل ہوئے یا ریڈ سی کے راستے ان کے حلیف پر حملے کیے گئے، تو وہ فوجی مداخلت کے لیے تیار ہیں۔
یہ پیش رفت ایک وسیع تر علاقائی جنگ کے خدشات کو بھی بڑھا رہی ہے، کیونکہ حوثی گروپ یمن سے باہر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور خلیجی پانیوں میں اہم تنصیبات اور شپنگ لائنز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
البتہ حزب اللہ اور عراقی مسلح گروپوں کے برعکس، حوثیوں نے ابھی تک جنگ میں براہِ راست شمولیت کا کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا۔
ماہرین کے مطابق حوثی مذہبی اصول ایران کے سپریم لیڈر کے تابع نہیں ہیں جیسے حزب اللہ اور عراقی گروپ ہیں، بلکہ ان کی سرگرمیاں بنیادی طور پر داخلی سیاسی ایجنڈے پر مرکوز ہیں، تاہم وہ ایران اور حزب اللہ کے ساتھ سیاسی ہم آہنگی رکھتے ہیں اور ایران کی محوری مزاحمت کی پالیسی کے ساتھ تعلق بھی ہے۔