بچوں کو صبح اسکول کے لیے جگانے کے آسان طریقے
ہروالدین کے لیے صبح کا سب سے مشکل مشن اپنے بچوں کو اسکول کے لیے نیند سے جگا کر بستر سے اٹھانا ہوتا ہے۔ اکثر گھروں میں یہ عمل چیخ و پکار، سزا اور تناؤ پر ختم ہوتا ہے، جس سے نہ صرف بچے کا پورا دن متاثر ہوتا ہے بلکہ والدین کی ذہنی صحت پر بھی بوجھ پڑتا ہے۔
حالیہ تحقیقات نے انکشاف کیا ہے کہ بچوں کو زبردستی اٹھانے کے بجائے چند نفسیاتی اور طرزِ زندگی کی تبدیلیوں سے اس عمل کو خوشگوار بنایا جا سکتا ہے۔
بچہ اسکول جانے سے کتراتا کیوں ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ صبح دیر سے جاگنا محض سستی نہیں ہوتی۔ والدین کو غور کرنا چاہیے کہ کہیں بچہ اسکول میں کسی قسم کے مذاق ، تعلیمی مشکلات یا کسی طبی مسئلے جیسے غذائی کمی یا ڈپریشن کا شکار تو نہیں۔ اگر بچہ مسلسل اسکول جانے سے انکار کرے تو اساتذہ سے رابطہ کر کے اصل وجہ جاننا ضروری ہے۔
بچوں کو جگانے کے 12 مؤثر اور جدید طریقے
تحقیق کے مطابق درج ذیل طریقے بچوں کی صبح کو پرسکون اور متحرک بنا سکتے ہیں۔
مثبت آغاز
صبح کا آغاز ڈانٹ کے بجائے پیار بھرے الفاظ اور بوسے سے کریں۔ بچے کو احساس دلائیں کہ اس کا جاگنا آپ کے لیے خوشی کا باعث ہے۔
قدرتی روشنی کا جادو
جیسے ہی صبح ہو، کمرے کے پردے ہٹا دیں تاکہ سورج کی روشنی براہِ راست بچے پر پڑے۔ انسانی جسم قدرتی طور پر روشنی کے ساتھ بیدار ہونے کے لیے پروگرام کیا گیا ہے۔
پسندیدہ ناشتے کی خوشبو
بچے کے لیے اس کی پسند کا ناشتہ بنائیں۔ جب کچن سے پسندیدہ کھانے کی خوشبو آئے گی تو وہ خود بخود بستر چھوڑنے پر مجبور ہو جائے گا۔
پالتو جانوروں کا استعمال
اگر گھر میں کوئی پالتو جانور ہے، تو اسے بچے کے کمرے میں بھیجنا اسے جگانے اور خوش کرنے کا ایک تفریحی طریقہ ہو سکتا ہے۔
موسیقی
ہلکی موسیقی یا پسندیدہ نظم چلانا بچے کے مزاج کو بہتر بناتا ہے۔
آرام دہ ماحول میں ’خلل‘
اگر بچہ نہ اٹھے تو کمرے کا پنکھا بند کر دینا یا کمبل ہٹا دینا اسے بستر چھوڑنے پر مجبور کر دے گا۔
انعامی نظام
وقت پر اٹھنے والے بچوں کو اسٹیکرز دیں یا ہفتے کے آخر میں کسی خاص تفریح کا وعدہ کریں یا کچھ دیر کے لیے اسے مابائل یا ٹی وی دیکھنے کی اجازت دے دیں۔
روزانہ کا مقررہ معمول بنانا
سونے اور جاگنے کا ایک ہی وقت مقرر کریں، یہاں تک کہ ہفتہ اور اتوار کو بھی اسی معمول پر عمل کریں۔
نتائج کا سامنا کرنے دیں
ماہرین کا ایک اہم مشورہ یہ ہے کہ والدین ہر وقت بچوں کو بچانے کی کوشش نہ کریں۔ اگر بچہ بار بار کہنے کے باوجود نہیں اٹھ رہا، تو اسے ایک بار اسکول دیر سے پہنچنے دیں تاکہ اسے اپنی سستی کے نتیجے کا احساس ہو۔ جب اسے ایک بار اسکول دیر سے جانے پر سزا ملے گی تو وہ خود بخود ٹائم پر پہنچے کی جلدی کرے گا۔
اسے اضافی گھریلو کام دیں یا اس کے پسندیدہ کھیل کا وقت کم کر دیں تاکہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھے۔
بچوں پر چیخنا یا سزا دینا ناکام ثابت ہوتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیں اور گھر کا ماحول ایسا بنائیں جہاں صبح کا وقت تناؤ کے بجائے ایک مثبت آغاز کا پیغام دے۔