آپریشن تھیٹر میں ’سی سیکشن‘ کا مقابلہ: ویڈیو وائرل ہونے پر پنجاب کے ڈاکٹرز معطل

اس طرح کا غیر پیشہ ورانہ رویہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا: وزیر صحت پنجاب
شائع 28 مارچ 2026 04:10pm

پنجاب کے شہر لاہور کے مشہور لیڈی ویلینگڈن اسپتال میں ایک ایسا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جس نے طبی شعبے کی اخلاقیات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اسپتال میں ’سی سیکشن‘ آپریشن کے دوران ڈاکٹرز کی دو ٹیموں کے درمیان مقابلے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دو حاملہ خواتین کے آپریشن کے دوران کچھ ڈاکٹرز مبینہ طور پر آپس میں مقابلہ کر رہے تھے کہ کون پہلے سرجری مکمل کرتا ہے۔

اس دوران نہ صرف ویڈیو بنائی گئی بلکہ مریضوں کے وقار کا خیال رکھے بغیر قہقہے بھی لگائے گئے۔ اس سنگین غفلت پر ایکشن لیتے ہوئے حکومت پنجاب نے چار ڈاکٹروں کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دو الگ آپریشن ٹیبل پر حاملہ خواتین موجود ہیں اور ان کے گرد ڈاکٹروں کی ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔ دونوں ٹیموں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے۔

ویڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹرز آپس میں ’فُل مقابلے‘ کی باتیں کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کو جلدی کام ختم کرنے کا کہہ رہے ہیں۔

اس تمام عمل کے لیے ایک ڈاکٹر کو بطور ’جج‘ بھی مقرر کیا گیا تھا۔

ویڈیو میں سنائی دیتا ہے کہ ’یہاں پر فُل مقابلہ چل رہا ہے کہ کون پہلے سیکشن کرتا ہے، ڈاکٹر عائشہ یا ڈاکٹر طیبہ۔‘

پھر ویڈیو میں ایک دوسری آواز سنائی دیتی ہے کہ ’ڈاکٹر عیسیٰ جج ہوں گے۔‘ جس پر قہقہے لگنے شروع ہوجاتے ہیں۔

ویڈیو بنانے والی خواتین ڈاکٹرز نے کیمرہ اپنی طرف کر کے خود کو ان ٹیموں کا حمایتی بھی ظاہر کیا اور آپریشن کے دوران نومولود بچوں کے رونے کی آوازیں بھی سنائی دیں۔

صوبائی حکومت نے اس واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اسے طبی ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

وزیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ مریض کا وقار اور اس کی پرائیویسی سب سے مقدم ہے، اور اس طرح کا غیر پیشہ ورانہ رویہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ سرکاری ذمہ داریوں میں غفلت کی بدترین مثال ہے جس نے عوام کا ڈاکٹروں پر اعتماد ٹھیس پہنچایا ہے۔

محکمہ صحت پنجاب نے نہ صرف متعلقہ ڈاکٹروں کو معطل کیا ہے بلکہ اسپتال کی ایم ایس اور گائنی ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ سے بھی تین روز کے اندر وضاحت طلب کر لی ہے۔

سیکریٹری صحت نے واضح کیا ہے کہ اگر مقررہ وقت میں تسلی بخش جواب نہ ملا تو ہسپتال کی انتظامیہ کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔

یاد رہے کہ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی ڈیوٹی کے دوران موبائل فون کے استعمال پر پہلے ہی پابندی عائد ہے، تاہم اس واقعے نے اسپتالوں میں ان قوانین پر عملدرآمد کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

Read Comments