کراچی کا نوجوان امریکی میزائل حملے میں شہید، میت کی وطن واپسی میں تاخیر

مرچنٹ شپ پر تعینات یاسرخان ایرانی سمندری حدود میں نشانہ بنے
اپ ڈیٹ 29 مارچ 2026 10:11am

کراچی کے علاقے ماڑی پور یونس آباد سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان ایران کی بندرگاہ بندر عباس پر میزائل حملے میں جاں بحق ہو گیا، تاہم واقعے کے پانچ روز گزرنے کے باوجود اس کی میت تاحال پاکستان منتقل نہیں کی جا سکی جس پر اہل خانہ شدید پریشانی اور کرب کا شکار ہیں۔

یاسر خان نامی نوجوان 23 مارچ کی شب ایران کے شہر بندر عباس میں ایک ٹگ بوٹ پر موجود تھا جب اس پر میزائل حملہ ہوا۔ اس واقعے میں یاسر خان جان کی بازی ہار گیا۔ ا

اہل خانہ کے مطابق یاسر گزشتہ چھ ماہ سے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اسی ٹگ بوٹ پر ملازمت کر رہا تھا اور روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک مقیم تھا۔

یاسر خان چھ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا اور اس کا ایک تین سالہ بیٹا بھی ہے۔ اس کی اچانک موت نے پورے خاندان کو صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔

گھر والوں کا کہنا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے پیارے کے نقصان کا دکھ برداشت کر رہے ہیں بلکہ میت کی واپسی میں تاخیر نے ان کی تکلیف میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

لواحقین کے مطابق واقعے کے بعد اب تک حکومتی سطح پر ان سے کوئی مؤثر رابطہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی میت کی واپسی کے لیے واضح اقدامات سامنے آئے ہیں۔ خاندان اپنی مدد آپ کے تحت مختلف ذرائع سے کوششیں کر رہا ہے تاکہ یاسر خان کی میت کو جلد از جلد وطن واپس لایا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی نے اہل خانہ سے رابطہ کیا ہے اور بلوچستان حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ تافتان بارڈر کے ذریعے میت کو کراچی منتقل کرنے کے لیے انتظامات کیے جائیں۔ تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

اہل خانہ نے وفاقی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وزارت خارجہ فوری طور پر مداخلت کرے اور ضروری سفارتی و انتظامی اقدامات کے ذریعے یاسر خان کی میت کو جلد پاکستان واپس لانے کو یقینی بنایا جائے تاکہ اسے اپنے آبائی علاقے میں سپرد خاک کیا جا سکے۔

Read Comments