ایرانی حملوں سے نقصانات کی ویڈیو بنانے پر یو اے ای میں 70 برطانوی شہری گرفتار

متحدہ عرب امارات کے قوانین کے مطابق ایسی کوئی بھی تصویر کھینچنا یا شیئر کرنا جو ’عوامی سلامتی‘ کے لیے خطرہ بنے، سنگین جرم ہے۔
شائع 29 مارچ 2026 10:30am

متحدہ عرب امارات میں ایران کی جانب سے کیے گئے ڈرون اور میزائل حملوں سے ہونے والے نقصانات کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے الزام میں 70 برطانوی شہریوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق، کے مطابق، ان گرفتار افراد میں سیاح، وہاں مقیم تارکین وطن اور ایئر لائن کا عملہ بھی شامل ہے جنہیں اب سخت قوانین کے تحت 10 سال تک قید یا بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اماراتی حکام اپنے ملک کے ’محفوظ اور پرکشش‘ تاثر کو بچانے کے لیے ان قوانین کا سخت استعمال کر رہے ہیں۔

برطانیہ میں کام کرنے والی تنظیموں ’دبئی واچ‘ اور ’ڈیٹینڈ ان دبئی‘ نے بتایا کہ گرفتار افراد کو پُرہجوم جیلوں میں رکھا گیا ہے جہاں بعض صورتوں میں انہیں نیند، خوراک اور ضروری ادویات سے بھی محروم رکھا گیا۔ ان میں سے کئی افراد کو ایسی عربی دستاویزات پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا جنہیں وہ سمجھ بھی نہیں سکتے تھے۔

برطانوی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی مدد کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اماراتی حکام تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

گرفتار ہونے والوں میں ایک برطانوی پائلٹ اور فلائی دبئی کا عملہ بھی شامل ہے۔ ایک واقعے میں ایک فلائٹ اسٹیورڈ کو محض اس لیے گرفتار کیا گیا کیونکہ اس نے دبئی ایئرپورٹ کے قریب گرنے والے ایرانی ڈرون کی تصویر کھینچ کر اپنے ساتھیوں سے پوچھا تھا کہ کیا یہ علاقہ محفوظ ہے؟ اسی طرح ایک 60 سالہ سیاح کو اس لیے دھر لیا گیا کیونکہ اس کے فون سے ایرانی میزائلوں کی ویڈیو برآمد ہوئی تھی، حالانکہ اس نے وہ ویڈیو پہلے ہی ڈیلیٹ کر دی تھی۔

متحدہ عرب امارات کے قوانین کے مطابق ایسی کوئی بھی تصویر کھینچنا یا شیئر کرنا جو ’عوامی سلامتی‘ کے لیے خطرہ بنے، سنگین جرم ہے۔

حکام کی جانب سے شہریوں کو موبائل پر پیغامات بھی بھیجے جاتے ہیں جن میں خبردار کیا جاتا ہے کہ حساس مقامات کی عکاسی قومی سلامتی پر سمجھوتہ کرنے کے مترادف ہے۔

پولیس مشکوک افراد کے فون بھی چیک کر رہی ہے اور واٹس ایپ پر ایسی تصاویر موصول کرنے والے افراد کو بھی ٹریس کر کے گرفتار کیا جا رہا ہے۔

لندن میں مقیم اماراتی سفارت خانے کا موقف ہے کہ لوگوں کو پہلے ہی واضح طور پر آگاہ کر دیا گیا تھا کہ حادثات کی جگہوں کی تصاویر نہ بنائی جائیں کیونکہ اس سے عوام میں خوف و ہراس پھیلتا ہے اور ملک کی اصل صورتحال کے بارے میں غلط تاثر پیدا ہوتا ہے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ افراد کوئی مجرم نہیں بلکہ عام شہری ہیں جنہوں نے بغیر کسی برے ارادے کے یہ تصاویر بنائیں۔

اس صورتحال کے باعث دبئی میں رہنے والے ڈھائی لاکھ سے زائد برطانوی شہریوں میں سے نصف کے قریب جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک واپس اپنے ملک جا چکے ہیں۔

Read Comments