سعودی عرب پر ایران کے حملے میں امریکی جاسوس طیارہ تباہ، تصاویر وائرل
سعودی عرب میں واقع ایک اہم فوجی اڈے پر ہونے والے ایرانی حملے امریکی فضائیہ کا انتہائی حساس جاسوس طیارہ ’ای تھری سینٹری‘ تباہ ہو گیا ہ، جس کی تصاویر بھی سامنے آگئی ہیں۔
ان تصاویر میں طیارے کا ریڈار ڈوم زمین پر گرا ہوا اور اس کا ڈھانچہ بری طرح متاثر نظر آ رہا ہے۔
اگرچہ امریکی حکام نے ابھی تک ان تصاویر کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے، تاہم امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے ماہرین کے حوالے سے کہا ہے کہ طیارے پر موجود نشانات اسی مخصوص امریکی نظام کے ہیں جو جنگ کے دوران ’امریکی افواج کی آنکھ‘ تصور کیا جاتا ہے۔
دو روز قبل پرنس سلطان ایئر بیس پر ہونے والے اس حملے میں 15 امریکی فوجی زخمی ہوئے تھے جن میں سے پانچ کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق، اس حملے کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں انتہائی مہارت سے طیارے کے ریڈار سسٹم کو نشانہ بنایا گیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حملے کے لیے ڈرونز یا سیٹلائٹ کے ذریعے حاصل کی گئی درست معلومات کا استعمال کیا گیا۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے حملے سے قبل اس فوجی اڈے کی تین بار سیٹلائٹ تصاویر لی تھیں اور انہیں یقین ہے کہ یہ معلومات ایران کو فراہم کی گئی تھیں۔
فاکس نیوز کے مطابق، اس حملے میں نہ صرف جاسوس طیارہ بلکہ ایندھن فراہم کرنے والے دو بڑے ٹینکر طیارے بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ اس سے قبل بھی اسی اڈے پر پانچ ری فیولنگ طیارے تباہ ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں 6 بیلسٹک میزائل اور 29 ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔
امریکی فضائیہ کے پاس اس قسم کے جاسوس طیاروں کی تعداد محض 30 کے قریب ہے اور ان کی جگہ نئے طیارے لانا ایک مشکل اور وقت طلب مرحلہ ہے۔
وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک اربوں ڈالر مالیت کا امریکی فوجی ساز و سامان تباہ یا ناکارہ ہو چکا ہے۔
پینٹاگون کے ایک سابق عہدیدار کا اندازہ ہے کہ جنگ کے پہلے تین ہفتوں میں ہونے والے نقصان اور طیاروں کی تبدیلی پر 1 ارب 40 کروڑ سے 2 ارب 90 کروڑ ڈالر تک کے اخراجات آ سکتے ہیں۔ اس نقصان میں قطر کا وہ ریڈار سسٹم بھی شامل ہے جو خطے میں ایک امریکی اڈے پر نصب کیا گیا تھا۔