سوشل میڈیا پر زیرِ گردش اسمارٹ لاک ڈاؤن کا نوٹیفکیشن جعلی ہے: عطا تارڑ

صوبوں کی رضامندی کے بعد باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری ہوگا، ذرائع
اپ ڈیٹ 29 مارچ 2026 05:15pm

وفاقی وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر زیرِ گردش اسمارٹ لاک ڈاؤن کا نوٹیفکیشن جعلی ہے۔

سوشل میڈیا پر اسمارٹ لاک ڈاؤن سے منسوب ایک مبینہ جعلی نوٹیفکیشن گردش کر رہا ہے جس حوالے سے وفاقی وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ وہ نوٹیفکیشن جعلی ہے۔

وفاقی حکومت نے ملک میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ کے حوالے سے صوبوں اور دیگر متعلقہ حکام کے ساتھ مشاورت شروع کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق اسمارٹ لاک ڈاؤن کا حتمی فیصلہ تمام صوبوں اور وفاقی اکائیوں کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ وزارت خزانہ کو اس حوالے سے خصوصی ٹاسک دے دیا گیا ہے تاکہ معاشی اور تجارتی سرگرمیوں پر لاک ڈاؤن کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔ فیصلے کے بعد کاروباری، تجارتی، صنعتی اور سروس سیکٹر پر اس کے اثرات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا تاکہ ملک میں اقتصادی سرگرمیوں کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

ذرائع نے بتایا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران شادی بیاہ اور دیگر تقریبات محدود کر دی جائیں گی جبکہ قومی شاہراہیں عام ٹریفک کے لیے بند کی جا سکتی ہیں تاکہ لاک ڈاؤن کے مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔

حکومتی ذرائع نے مزید بتایا کہ لاک ڈاؤن کے نفاذ کی مدت اور شیڈول تمام متعلقہ اکائیوں کی منظوری کے بعد طے کیا جائے گا اور اس کے بعد باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل سوشل میڈیا پر زیر گردش مبینہ جعلی نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ملک میں توانائی اور ایندھن کی بچت کے پیش نظر ہفتے میں دو روزہ اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جو آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں۔

جعلی نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ لاک ڈاؤن ہر ہفتے ہفتہ کی دوپہر 12 بجے سے اتوار کی رات 12 بجے تک نافذ کیا جائے گا۔

جبکہ شادی بیاہ سمیت تمام کمرشل سرگرمیاں معطل رکھنے کی سفارش شامل کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ جعلی نوٹیفکیشن میں کاروباری مراکز، دفاتر اور دیگر غیر ضروری سرگرمیاں بھی بند رکھنے کی ہدایات شامل کی گئی تھیں۔

جعلی نوٹیفکیشن میں لکھا گیا تھا کہ ابتدائی طور پر اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ کا آغاز 4 اپریل سے کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ صورتحال کو کنٹرول کیا جا سکے۔

Read Comments