ایران جنگ کا دو افراد کو فائدہ؛ ٹرمپ باہر، امریکا کا اگلا صدر کون؟

جنگ کے نتائج 2028 کے صدارتی انتخاب پر اثرانداز، ٹرمپ بھی مخمصے میں
اپ ڈیٹ 30 مارچ 2026 12:31pm

ایران جنگ کے بڑھتے ہوئے اثرات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی پوزیشن کے ساتھ ساتھ ان کے قریبی ساتھیوں نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبی کے درمیان سیاسی مقابلہ بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ایران جنگ کے باعث امریکی سیاست میں اہم پیش رفت دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی جے ڈی وینس اور مارکو روبیو کو مستقبل کی قیادت کے لیے مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔

دونوں رہنما اس وقت ایران جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں شامل ہیں، جبکہ ریپبلکن پارٹی پہلے ہی ٹرمپ کے بعد کی قیادت پر غور کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس نے محتاط حکمت عملی اپنائی ہے اور وہ طویل امریکی فوجی مداخلت کے حوالے سے شکوک و شبہات رکھتے ہیں۔

دوسری جانب مارکو روبیو نے ٹرمپ کے سخت مؤقف کی بھرپور حمایت کی ہے اور وہ اس پالیسی کے نمایاں دفاع کرنے والوں میں شامل ہیں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ دونوں رہنما ایران کو اس کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام ختم کرنے اور آبنائے ہرمز میں تیل کی آزادانہ ترسیل بحال رکھنے پر آمادہ کرنے کی کوششوں میں شریک ہیں۔

2028 کے صدارتی انتخابات کے پیش نظر، جہاں آئینی پابندی کے باعث ٹرمپ خود دوبارہ امیدوار نہیں بن سکتے، وہ نجی سطح پر اپنے مشیروں سے یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ ان کے بعد قیادت کون سنبھالے گا: ”جے ڈی یا مارکو؟“

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران میں جاری امریکی فوجی کارروائی، جو اب پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، دونوں رہنماؤں کے سیاسی مستقبل کا تعین کر سکتی ہے۔ اگر جنگ جلد امریکہ کے حق میں ختم ہو جاتی ہے تو اس سے روبیو کو فائدہ ہو سکتا ہے، جبکہ طویل جنگ وینس کو اپنے محتاط مؤقف کو اجاگر کرنے کا موقع دے سکتی ہے۔

ادھر ایک حالیہ سروے کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت کم ہو کر 36 فیصد رہ گئی ہے، جس کی وجہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور ایران جنگ پر عوامی تنقید بتائی جا رہی ہے۔

ریپبلکن حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ ٹرمپ کس رہنما کی حمایت کرتے ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس نے اس تاثر کو مسترد کر دیا ہے کہ صدر کسی ایک امیدوار کو ترجیح دے رہے ہیں۔

41 سالہ جے ڈی وینس، جو عراق میں خدمات انجام دے چکے ہیں، ماضی میں غیر ملکی جنگوں میں امریکی مداخلت کے ناقد رہے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے حالیہ دنوں میں ٹرمپ کی ایران پالیسی کی حمایت کی ہے، تاہم دونوں کے درمیان اس معاملے پر نظریاتی اختلافات بھی موجود ہیں۔

ذرائع کے مطابق وینس 2028 کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے یا نہ لینے کا فیصلہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد کریں گے۔ ایک حالیہ سروے میں انہیں 53 فیصد حمایت حاصل ہوئی، جبکہ روبیو 35 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

54 سالہ مارکو روبیو نے عندیہ دیا ہے کہ اگر وینس صدارتی انتخاب لڑتے ہیں تو وہ خود امیدوار نہیں بنیں گے اور بطور نائب ان کے ساتھ چلنے پر بھی آمادہ ہو سکتے ہیں۔ تاہم سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وینس کمزور نظر آئے تو روبیو سمیت دیگر رہنما میدان میں آ سکتے ہیں۔

روبیو، جو ماضی میں ٹرمپ کے ناقد رہے، اب ان کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں اور ایران جنگ کے دوران انہوں نے کھل کر حکومتی مؤقف کا دفاع کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران جنگ کے نتائج امریکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔ اگر یہ مہم کامیاب رہتی ہے تو حکومتی رہنماؤں کو سیاسی فائدہ ہو سکتا ہے، جبکہ طویل اور غیر یقینی جنگ سیاسی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

ایک حالیہ سروے کے مطابق 75 فیصد ریپبلکن ووٹرز ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ ڈیموکریٹس اور آزاد ووٹرز میں یہ حمایت نمایاں طور پر کم ہے۔

حالیہ کابینہ اجلاس میں بھی دونوں رہنماؤں کا انداز واضح طور پر مختلف نظر آیا۔ مارکو روبیو نے ایران پر حملے کا بھرپور دفاع کیا، جبکہ جے ڈی وینس نے نسبتاً محتاط انداز اپناتے ہوئے سفارتی آپشنز پر زور دیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں ایران جنگ کا رخ نہ صرف خطے بلکہ امریکی سیاست کی آئندہ قیادت کا بھی تعین کرے گا۔

Read Comments