ٹرمپ کا 38 سال پرانا منصوبہ، ایران کے حوالے سے 1987 کی ویڈیو وائرل

یہ ویڈیو کلپ 1987 کا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ محض ایک کاروباری شخصیت تھے، لیکن اس وقت بھی ان کی سوچ ایران کے حوالے سے انتہائی سخت تھی۔
شائع 31 مارچ 2026 11:36am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنا ایک ایسا پرانا انٹرویو شیئر کیا ہے جس نے موجودہ ایران جنگ پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

یہ ویڈیو کلپ 1987 کا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ محض ایک کاروباری شخصیت تھے، لیکن اس وقت بھی ان کی سوچ ایران کے حوالے سے انتہائی سخت تھی۔

اس قدیم انٹرویو میں ٹرمپ کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ہمیں ایرانی سمندروں میں داخل ہو کر ان کے تیل پر قبضہ کر لینا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وہاں جائیں، تیل پر قبضہ کریں اور ایران کو اپنی جنگ خود لڑنے دیں، اس طرح ہم اپنی تمام کسر نکال سکتے ہیں۔‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے یہ کلپ ایک ایسے وقت میں خود شیئر کیا ہے جب امریکی افواج ایران کے ساتھ ایک فعال جنگ میں مصروف ہیں۔

1987 میں معروف صحافی باربرا والٹرز کو دیے گئے اس انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس سے خطرات نہیں بڑھیں گے، تو ٹرمپ کا جواب تھا کہ ’آپ وہاں جائیں اور تیل لے لیں، کمزوری دکھانے سے ہی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔‘

انہوں نے اس وقت یہ بھی کہا تھا کہ ’اگر ایران دوبارہ حملہ کرے تو ہمیں ان کی تیل کی تنصیبات پر قبضہ کر کے اسے اپنے پاس رکھ لینا چاہیے۔‘

موجودہ حالات میں اس ویڈیو کو شیئر کرنا صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک واضح پیغام سمجھا جا رہا ہے۔

ایک طرف صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی نئی قیادت کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور وہ لوگ پہلے کے مقابلے میں زیادہ معقول نظر آتے ہیں، لیکن دوسری طرف انہوں نے ایک سنگین دھمکی بھی دی ہے۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر جلد ہی کوئی معاہدہ طے نہ پایا اور تیل کی تجارت کے لیے اہم راستہ آبنائے ہرمز نہ کھولا گیا تو امریکا ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوؤں اور خاص طور پر ان کی سب سے بڑی بندرگاہ خارک آئی لینڈ کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں تیکھا لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایران میں اپنی جنگ وہاں کے بجلی گھروں اور تیل کی تنصیبات کو ملیامیٹ کر کے ختم کریں گے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ انداز ظاہر کرتا ہے کہ چار دہائیاں گزرنے کے باوجود ایران کے بارے میں ان کا بنیادی نظریہ تبدیل نہیں ہوا۔ جہاں وہ ایک طرف مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کی بات کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف وہ ایران کی معیشت کی شہ رگ یعنی تیل پر براہِ راست حملے کی دھمکی دے کر تہران پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں۔

Read Comments