ایران کا امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ، دو اسرائیلی جاسوس گرفتار، نئی کارروائیوں میں 11 ایرانی شہری شہید
ایران میں امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے بعد سیکیورٹی اور فوجی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے، جہاں مختلف شہروں میں حملوں، گرفتاریوں اور امدادی سرگرمیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ وہیں ایران نے امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کردیا ہے۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے اصفہان کے قریب ایک ایم کیو-9 ریپر ڈرون مار گرایا ہے، جسے ایران نے امریکی-اسرائیلی جارح دشمن کا ڈرون قرار دیا۔
ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق یہ کارروائی منگل کو انجام دی گئی اور ایران کی جانب سے مار گرائے گئے ڈرونز کی مجموعی تعداد 146 ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایم کیو-9 ریپر ڈرون عام طور پر نگرانی اور حملوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس کی مالیت تقریباً 3 کروڑ ڈالر بتائی جاتی ہے۔
دوسری جانب ایرانی سیکیورٹی فورسز نے شمال مغربی علاقے میں دو افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر حساس مقامات کی معلومات امریکی اور اسرائیلی خفیہ اداروں کو فراہم کرنے کا الزام ہے۔
تسنیم نیوز کے مطابق ملزمان کو کرپٹو کرنسی کے ذریعے ادائیگی کی جاتی تھی۔ یہ گرفتاریاں صوبہ مشرقی آذربائیجان کے شہر اسکو میں عمل میں آئیں اور دونوں افراد کو عدالتی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
ادھر صوبہ مرکزی کے شہر محلات میں گزشتہ رات ہونے والے ایک حملے میں 11 افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہو گئے۔
ایرانی خبر ایجنسی ایسنا کے مطابق شہر میں تین رہائشی یونٹس براہ راست میزائل حملوں کی زد میں آئے جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ اسی دوران تہران اور اصفہان کے مرکزی علاقوں میں بھی امریکی-اسرائیلی حملوں کی اطلاعات ہیں۔
شمال مغربی شہر زنجان میں بھی ایک مذہبی مقام کو نقصان پہنچا ہے۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق حملے کے نتیجے میں حسینیہ اعظم کے سنہری گنبد اور مینار کو جزوی نقصان پہنچا۔
ان حملوں کے بعد ایرانی ہلال احمر کی جانب سے تہران اور زنجان میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ تنظیم کے مطابق امدادی کارکنوں نے تہران میں زخمیوں کو ملبے سے نکال کر اسپتال منتقل کیا جبکہ زنجان میں حسینیہ اعظم کے مقام پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں تہران میں تباہ شدہ رہائشی عمارتوں کے مناظر دکھائے گئے ہیں جہاں ایک بلڈوزر ملبہ ہٹا کر سڑک کو صاف کرنے میں مصروف ہے۔
مجموعی طور پر ایران میں حالیہ حملوں اور سیکیورٹی کارروائیوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے جبکہ حکام کی جانب سے مزید اقدامات اور تحقیقات جاری ہیں۔