مشرقِ وسطیٰ کے کچھ اہم ممالک کے ساتھ ایران مخالف اتحاد بنانے جارہے ہیں: نیتن یاہو کا دعویٰ
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کے چند اہم ممالک کے ساتھ مل کر ایران مخالف اتحاد قائم کرنے جارہا ہے، جس میں ممکنہ طور پر مشترکہ فوجی اقدامات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے منگل کی شب ایک ریکارڈ شدہ خطاب میں کہا کہ اسرائیل نے ایران کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران برسوں سے خطے پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا تاہم اسرائیل نے حالیہ جنگ میں اس کے اثر و رسوخ کو کمزور کر دیا ہے۔
نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ ایران کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے نئے اتحاد تشکیل دیے جا رہے ہیں، جن میں خطے کے اہم ممالک بھی شامل ہوں گے تاہم انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا۔
اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ امید رکھتے ہیں کہ جلد ہی ان نئے علاقائی اتحادوں سے متعلق مزید تفصیلات سامنے لائی جا سکیں گی۔
اپنے خطاب میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل پہلے تنہا لڑ رہا تھا مگر اب امریکا اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا میں نے ماضی میں امریکی صدور کو ایران کے خطرے سے آگاہ کیا تھا، تاہم اس خطرے کو مکمل طور پر سمجھا نہیں گیا۔
ملک میں ان کے خلاف شروع ہونے والے احتجاج سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اور میڈیا اس حساس وقت میں سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ایران اب بھی اسرائیل پر ڈرونز اور میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی بڑا خطرہ نہیں ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے اس طرح کے دعوؤں کے برعکس اسرائیل کی جانب سے نقصانات کو مسلسل چھپایا جارہا ہے اور میڈیا پر بھی پابندیاں عائد ہیں۔
اسرائیلی فوج نے جنگ کو ایک ماہ گزرنے کے بعد پیر کے روز پہلی بار نقصان کے کچھ اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ جس کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 261 اسرائیلی فوجی اور چھ ہزار سے زائد سویلین زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 121 افراد اب بھی زیر علاج ہیں، تاہم ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تعداد ظاہر نہیں کی گئی۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قانی نے ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو خطے میں توسیع پسندی کے عزائم رکھتے ہیں، تاہم ان کے یہ خواب اب حقیقت کا روپ دھارتے نظر نہیں آ رہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں موجود ایران کی اتحادی قوتوں کے درمیان تعاون اور رابطہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ مزاحمتی قوتوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم مربوط ہے اور ان کا وار روم ایک ہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بدلتی ہوئی صورتحال میں اسرائیل کو اس نئی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے خود کو اس کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔