بھارتی بحری جہاز خفیہ راستے سے آبنائے ہرمز سے کیسے فرار ہوا؟

'بھارتی عملے نے تین ہفتوں تک ہر روز اپنے سروں پر میزائلوں اور ڈرونز کی گھن گرج سنی'
شائع 01 اپريل 2026 09:19am

فروری کے اختتام پر جب اسرائیل اور امریکا نے ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تو تہران نے آبنائے ہرمز میں موجود سیکڑوں بحری جہازوں کا راستہ بند کردیا۔ ان میں سے ایک بھارتی ایل پی جی ٹینکر ’پائن گیس‘ بھی تھا، جو متحدہ عرب امارات کی رویس بندرگاہ سے گیس لوڈ کر کے بھارت کے لیے روانہ ہوا تھا، لیکن اسے ہرمز کی پٹی پار کرنے میں تین ہفتے لگ گئے۔ اس دوران جہاز کے عملے نے جو کچھ دیکھا اور جس طرح وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے، وہ کسی فلمی کہانی سے کم نہیں۔

جہاز کے چیف آفیسر سوہن لال نے برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ ان کے 27 رکنی بھارتی عملے نے تین ہفتوں تک ہر روز اپنے سروں پر میزائلوں اور ڈرونز کی گھن گرج سنی۔

سوہن لال نے بتایا کہ بھارتی حکام نے عملے کو 11 مارچ کو تیار رہنے کا کہا تھا، لیکن جنگ کی شدت کی وجہ سے انہیں 23 مارچ تک انتظار کرنا پڑا، اور آخر کار ایران کی جانب سے انہیں ایک ایسے راستے سے گزرنے کی اجازت دی گئی جو عام طور پر بحری آمد و رفت کے لیے استعمال نہیں ہوتا۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے بھارتی ٹینکر کو ہدایت کی کہ وہ ہرمز کی عام گزرگاہ کے بجائے ایرانی ساحل کے قریب ’لارک جزیرے‘ کے شمال میں موجود ایک تنگ چینل سے گزرے۔ ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ اصل راستہ بارودی سرنگوں کی وجہ سے خطرناک ہو چکا ہے۔

ممبئی میں مقیم جہاز کے مالکان اور بھارتی حکومت نے اس پُرخطر سفر کے لیے عملے سے اُن کی مرضی پوچھی اور تمام 27 ارکان کی رضامندی کے بعد ہی جہاز آگے بڑھا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اس دوران ایرانی اہلکار نہ تو جہاز پر سوار ہوئے اور نہ ہی کوئی فیس وصول کی گئی۔

ہرمز کی پٹی عبور کرنے کے بعد بھارتی بحریہ کے چار جنگی جہازوں نے اس ٹینکر کو گھیرے میں لے لیا اور تقریباً 20 گھنٹے میں بحیرہ عرب تک بحفاظت پہنچایا۔

واضح رہے کہ بھارت میں کروڑوں گھرانوں کا چولہا ایل پی جی گیس پر چلتا ہے، اسی لیے اس جہاز کی حفاظت انتہائی ضروری تھی۔

ایران نے بھارت سمیت چین، روس اور پاکستان جیسے ’دوست ممالک‘ کے جہازوں کو راستہ دینے کا اعلان کیا ہے، تاہم اب بھی 18 بھارتی بحری جہاز خلیج فارس میں پھنسے ہوئے ہیں جن پر 485 بھارتی شہری موجود ہیں۔

Read Comments