مشرق وسطیٰ میں نیا اتحاد تشکیل دے رہے ہیں، اہم ممالک حصہ ہوں گے: نیتن یاہو کا دعویٰ

نیتن یاہو دراصل ٹرمپ کے ایران جنگ چھوڑنے کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے زمین ہموار کر رہے ہیں: ماہرین
شائع 01 اپريل 2026 11:40am

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کے اہم ممالک کے ساتھ مل کر ایک نیا اتحاد تشکیل دے رہا ہے جس کا مقصد ایران کی جانب سے درپیش مشترکہ خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔

یہودیوں کے مذہبی تہوار ’پیساخ‘ کی مناسبت سے قوم سے اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ وہ جلد ہی اس اتحاد کی تفصیلات اور اس میں شامل ممالک کے بارے میں اپنے عوام کو آگاہ کریں گے۔

نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ایران کا موجودہ نظام اپنی تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے اور اسرائیل نے امریکa کے ساتھ مل کر اس نظام کو کمزور کرنے میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

نیتن یاہو نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کی مشترکہ مہم نے ایران کے جوہری پروگرام، میزائل ٹیکنالوجی اور عسکری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے حماس، حزب اللہ، حوثی باغیوں اور شام میں بشار الاسد کی حکومت کو پہنچنے والی ضربوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے ایران کے حامی گروپوں کو کچل کر رکھ دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران نے دہائیوں تک مشرقِ وسطیٰ پر قبضے اور اسرائیل و امریکا کی تباہی کے لیے جو اربوں ڈالر خرچ کیے تھے، وہ اب ضائع ہو چکے ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اگرچہ اس جنگ میں اسرائیل کو اپنے فوجیوں کی ہلاکت کا دکھ جھیلنا پڑا ہے، لیکن اب اسرائیل پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے اس خطاب کو مقامی تجزیہ کار ایک خاص تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ نیتن یاہو دراصل ان حالات کے لیے زمین ہموار کر رہے ہیں جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی باقاعدہ معاہدے کے بغیر ہی ایران کے خلاف جنگ روکنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے حال ہی میں اشارہ دیا ہے کہ جنگ کے مقاصد حاصل کر لیے گئے ہیں اور اب اسے ختم کیا جا سکتا ہے۔

تاہم اسرائیل میں اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے نیتن یاہو کے خطاب کو ’تکبر‘ پر مبنی قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے اور ان پر الزام لگایا ہے کہ وہ بیرونی فتوحات کے دعوے تو کر رہے ہیں لیکن ملک کو اندرونی طور پر تقسیم کر رہے ہیں۔

Read Comments