یو اے ای کا ایران جنگ میں کودنے کا اشارہ، آبنائے ہرمز کھلوانے میں امریکا کو مدد کی پیش کش

یو اے ای اس تنازع میں براہ راست کودنے والا پہلا خلیجی ملک بن سکتا ہے: رپورٹ
اپ ڈیٹ 01 اپريل 2026 01:12pm

خلیج فارس کی بدلتی ہوئی صورتِحال میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کا ساتھ دینے اور طاقت کے زور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں مدد فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی عرب حکام کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یو اے ای اس تنازع میں براہ راست کودنے والا پہلا خلیجی ملک بن سکتا ہے۔

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتحادیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کی حفاظت صرف امریکہ کی ذمہ داری نہیں ہے اور دیگر ممالک کو اپنے تیل کے راستوں کی حفاظت خود کرنی چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق امارتی حکام اب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک ایسی قرارداد لانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا راستہ صاف کر سکے۔

اماراتی سفارت کاروں نے امریکا، یورپ اور ایشیا کی عسکری طاقتوں پر زور دیا ہے کہ وہ مل کر ایک بڑا اتحاد بنائیں تاکہ بحری تجارت کے لیے انتہائی اہم اس راستے کو واگزار کرایا جا سکے۔

اگرچہ روس اور چین کی جانب سے ایسی کسی قرارداد کو ویٹو کیے جانے کا خدشہ موجود ہے، تاہم اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ قرارداد منظور نہ ہونے کی صورت میں بھی وہ بارودی سرنگیں صاف کرنے اور دیگر فوجی کارروائیوں میں بھرپور تعاون کے لیے تیار ہیں۔

اس کے علاوہ امارات نے مشورہ دیا ہے کہ امریکا کو ابوموسیٰ جیسے تزویراتی جزائر کا کنٹرول سنبھال لینا چاہیے جو طویل عرصے سے ایران کے قبضے میں ہیں۔

اس حوالے سے چیٹم ہاؤس کے فیلو اور پینٹاگون کے سابق مشیر برائے مشرق وسطیٰ بلال صعب کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا جنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ اس بات کا کھلا ثبوت ہوگا کہ عرب دنیا اس فوجی مہم کی پشت پناہی کر رہی ہے۔

ان کے مطابق اس فیصلے سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے نئے اور بہتر آپشنز پیدا ہوں گے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ امارات کے پاس جبل علی جیسی گہری بندرگاہ اور جدید ترین ایف 16 طیاروں پر مشتمل فضائیہ موجود ہے جو امریکی اور اسرائیلی افواج کے لیے کلیدی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

ماہرین اس پیش رفت کو متحدہ عرب امارات کی حکمت عملی میں ایک بڑی تبدیلی قرار دے رہے ہیں کیونکہ جنگ سے قبل امارات امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں کر رہا تھا۔

رائسٹڈ انرجی میں آئل اینڈ گیس ریسرچ کے نائب صدر چن لن کا ماننا ہے کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک بھی اب ایرانی قیادت کے خلاف سخت موقف اپنا رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ تنازع اس وقت تک جاری رہے جب تک ایرانی اثر و رسوخ مکمل طور پر ختم نہ ہو جائے۔

بحرین نے بھی اس ممکنہ قرارداد کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے جس پر جمعرات کو ووٹنگ متوقع ہے۔

Read Comments