ٹرمپ ایران سے جنگ چاہتے ہیں یا انخلا؟ بدلتے بیانات سے مشیر بھی پریشان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق متضاد بیانات نے نہ صرف عالمی مارکیٹ کو الجھا رکھا ہے بلکہ ان کے اپنے قریبی مشیر بھی شدید بے چینی اور غیر یقینی کا شکار ہیں۔ قریبی معاونین کے مطابق صدر ٹرمپ کے پاس کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں اور وہ بدلتی صورت حال کے مطابق فیصلے کر رہے ہیں۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران سے متعلق متضاد بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس نے ان کے اپنے قریبی حلقوں میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔
صدر کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنے والے بعض مشیروں کا کہنا ہے کہ وہ کسی واضح منصوبے کے بغیر فیصلے کر رہے ہیں اور اپنے آپشنز کھلے رکھنا چاہتے ہیں۔ ایک سینئر مشیر کے مطابق ’کوئی نہیں جانتا کہ وہ سوچ کیا رہے ہیں‘۔
ایک سینئر مشیر کا کہنا ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ وہ واقعی کیا سوچ رہے ہیں۔ کبھی یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنگ میں شدت چاہتے ہیں جب کہ بعض مواقع پر وہ جنگ کے فوری خاتمے کے خواہاں نظر آتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ سابق امریکی حکام کے مطابق ابتدائی حملوں کے بعد امریکا کے پاس کوئی واضح حکمت عملی باقی نہیں رہی اور اب فیصلے حالات کے مطابق کیے جا رہے ہیں جب کہ دیگر کے نزدیک یہ غیر یقینی جان بوجھ کر برقرار رکھی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نجی سطح پر جنگ کے مخالف اپنے پرانے ساتھیوں کے بجائے سینیٹر لنڈسے گراہم اور قدامت پسند مبصر مارک لیون جیسے جنگ کے حامی رہنماؤں سے زیادہ رابطے میں ہیں۔
اس وقت صورت حال یہ ہے امریکی صدر ایک طرف جنگ سے کی حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں، جس میں آبنائے ہرمز کی بندش اور کسی معاہدے کے بغیر جنگ سے انخلا بھی شامل ہے۔ اس صورت میں وہ آئندہ دو سے تین ہفتوں میں کامیابی کا اعلان کر کے جنگ ختم کرسکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکا خطے میں مزید فوجی تعینات کر رہا ہے، جسے ممکنہ زمینی حملے کی تیاری قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم ایک مشیر کے مطابق صدر ’زمینی فوجیں بھیجنا نہیں چاہتے اور جب وہ کوئی کام نہیں کرنا چاہتے تو اس سے بچنے کے لیے ہر ممکن حد تک جاتے ہیں‘۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کی توانائی تنصیبات پر حملوں کو 6 اپریل تک مؤخر کر رکھا ہے۔ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ الٹی میٹم ایرانی حکومت کی درخواست پر دیا گیا ہے تاکہ جاری مذاکرات کے لیے وقت مل سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پسِ پردہ بات چیت بہت اچھی جا رہی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ یہ بھی کہہ چکے ہیں ڈیڈ لائن تک آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نہیں کھولا گیا تو وہ ایران کے انرجی گرڈ، خصوصاً بڑے بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کا حکم دیں گے۔
ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر مقررہ مدت تک کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو صدر ایران کے انفراسٹرکچر اور جوہری تنصیبات پر بڑے پیمانے پر بمباری کے بعد جنگ سے نکلنے کا اعلان کر سکتے ہیں، جبکہ ایک اور حکمت عملی کے طور پر وقفے وقفے سے حملے جاری رکھنے کا آپشن بھی زیر غور ہے۔
دوسری جانب ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ جنگ بندی کے بجائے مکمل جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے ایران نے اس حوالے سے اپنی شرائط واضح کر رکھی ہیں اور امریکی سفارت کاری پر بھی مسلسل عدم اعتماد کا اظہار کر رہا ہے۔