ناسا کا تاریخی مشن ’آرٹیمس ٹو‘ نصف صدی بعد انسان کو لے کر چاند کی جانب روانہ
امریکی خلائی ادارے ناسا نے نصف صدی کے طویل انتظار کے بعد ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے تقریباً پچاس سال بعد پہلی بار انسانوں کو چاند کے گرد بھیجنے کے لیے آرٹیمس ٹو مشن کامیابی سے لانچ کر دیا ہے۔
یہ راکٹ فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے یکم اپریل 2026 کو 6 بجکر 35 منٹ پر روانہ ہوا، جس میں چار خلا باز سوار ہیں۔ یہ مشن مستقبل میں چاند پر دوبارہ انسان اتارنے کی تیاری کا اہم حصہ ہے۔
یہ سفر کئی لحاظ سے تاریخی ہے کیونکہ یہ خلا میں اب تک کے طویل ترین فاصلے، یعنی 2 لاکھ 52 ہزار (4 لاکھ 6 ہزارکلومیٹر) تک سفر کرے گا، جو اپولو 13 کے ریکارڈ سے بھی آگے ہے۔
آخری بار جب انسانوں نے چاند کی سطح پر قدم رکھے تھے، وہ 1972 میں ’اپولو‘ کا آخری مشن تھا۔ چاند پر اترنے کا یہ منفرد اعزاز اب تک صرف امریکا کو ہی حاصل ہے۔
مشن ’آرٹیمس ٹو‘ میں ٹیم کی قیادت ریڈ وائزمین بطور کمانڈر کر رہے ہیں، جبکہ کرسٹینا کوچ چاند کے کسی بھی مشن کا حصہ بننے والی پہلی خاتون خلانورد بن گئی ہیں۔ ان کے ہمراہ وکٹر گلوور چاند کی جانب سفر کرنے والے پہلے سیاہ فام خلانورد کے طور پر اپنی شناخت بنا رہے ہیں، اور جیرمی ہینسن کا تعلق کینیڈا سے ہے جو اس مشن میں شامل ہونے والے پہلے غیر ملکی خلانورد ہیں۔
ناسا حکام کے مطابق یہ مشن نہ صرف چاند پر مستقل انسانی موجودگی کے خواب کو حقیقت کے قریب لانے میں مدد دے گا بلکہ مستقبل میں مریخ تک انسانی رسائی کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
ادارے کے ایڈمنسٹریٹر جیریڈ آئزک مین نے کہا کہ امریکہ 2028 تک چاند کے جنوبی قطب پر انسان اتارنے کا ہدف رکھتا ہے، تاکہ چین کے متوقع 2030 کے مشن سے پہلے برتری حاصل کی جا سکے۔ یہ کوشش چین کے ساتھ ایک نئی خلائی دوڑ کا بھی حصہ سمجھی جا رہی ہے۔
لانچ کے بعد خلائی جہاز نے کامیابی سے اپنے ابتدائی مراحل مکمل کیے، اور خلا بازوں نے دستی طور پر جہاز کو کنٹرول کرنے کی مشق بھی کی۔ اس سے یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ اگر خودکار نظام میں کوئی خرابی ہو جائے تو خلا باز خود جہاز کو سنبھال سکیں۔
ناسا حکام کے مطابق یہ مشن نہ صرف سائنسی لحاظ سے اہم ہے بلکہ یہ مستقبل میں مریخ جیسے سیاروں تک انسانی سفر کی راہ بھی ہموار کرے گا۔ اس کامیابی کو دنیا بھر میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔