سوئٹزرلینڈ کا امریکی فضائی دفاعی نظام، ’پیٹریاٹ‘ کی خریداری روکنے پر غور
سوئٹزرلینڈ نے امریکا سے پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کی خریداری کے لیے ادائیگیاں روکنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور واضح کیا ہے کہ جب تک واشنگٹن کی جانب سے ترسیل کی حتمی اور قابلِ عمل تاریخیں فراہم نہیں کی جاتیں، ادائیگیاں جاری نہیں کی جائیں گی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سوئس حکومت نے بدھ کو جاری بیان میں کہا ہے کہ پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی فراہمی کا شیڈول تاحال غیر یقینی کا شکار ہے، جبکہ ادائیگیوں کے مراحل بھی واضح نہیں ہیں، جس کے باعث ادائیگی روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت نے یہ بھی عندیہ دیا کہ معاہدہ ختم کرنا بھی ایک ممکنہ آپشن کے طور پر زیر غور ہے۔
سوئٹزرلینڈ کے وزیر دفاع مارٹن فِسٹر نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ حکومت اب بھی اس دفاعی نظام کے حصول کی خواہاں ہے، تاہم تمام ممکنہ آپشنز کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اس وقت امریکا کے ساتھ تمام ممکنہ راستوں پر بات چیت کر رہے ہیں، جن میں معاہدہ ختم کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ممکنہ منسوخی کی شرائط ابھی واضح نہیں ہیں اور اس حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔
دوسری جانب سوئس حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ ایف-35 اے لڑاکا طیاروں کی خریداری سے متعلق ادائیگی کو مارچ 2026 کے اختتام تک پہلے ہی منتقل کردیا گیا ہے، تاکہ پیٹریاٹ سسٹم سے متعلق فیصلوں کے باعث اس اہم دفاعی منصوبے کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
سوئٹزرلینڈ کی وزارت دفاع کے مطابق پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی خریداری کے حوالے سے آئندہ کے اقدامات سے متعلق جون کے اختتام تک وفاقی کونسل کو آگاہ کردیا جائے گا۔