چین کا خفیہ مشن: نئے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا انکشاف
چین کے صوبہ سیچوان کے ایک دور افتادہ گاؤں کے مکینوں نے جب حکومت سے اپنی زمینوں پر قبضے اور بے دخلی کی وجہ پوچھی تو انہیں صرف یہ جواب ملا کہ یہ ایک ریاستی راز ہے۔ اب ایک تازہ تحقیقاتی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس راز کا تعلق چین کے ان خفیہ منصوبوں سے ہے جن کے تحت وہ خاموشی سے اپنے جوہری ہتھیاروں کے نیٹ ورک میں بڑی توسیع کر رہا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق، سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تصاویر دکھاتی ہیں کہ جہاں کبھی بستیاں آباد تھیں، وہاں اب بلند و بالا عمارتیں اور ایسے گنبد نما ڈھانچے تعمیر ہو چکے ہیں جو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس نئی جوہری فیسیلیٹی کو ’سائٹ 906‘ نام دیا گیا ہے۔
سی این این کی تحقیقات کے مطابق سیچوان کے علاقے میں واقع ایک جوہری اڈے میں ایک بہت بڑا گنبد تعمیر کیا گیا ہے جس کا رقبہ 13 ٹینس کورٹس کے برابر ہے۔ اس مضبوط کنکریٹ اور اسٹیل کے ڈھانچے میں ریڈیشن مانیٹر اور دھماکہ پروف دروازے نصب کیے گئے ہیں تاکہ یورینیم اور پلوٹونیم جیسے تابکار مواد کو محفوظ رکھا جا سکے۔
مڈل بیری کالج کے ممتاز اسکالر جیفری لیوس نے سی این این سے گفتگو میں ان تبدیلیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمارت چین کے مستقبل کے عزائم کے بارے میں امریکا کے بدترین خدشات کی عکاسی کرتی ہے، اس کمپلیکس کی ازسرنو تشکیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت میں بہت بڑا اضافہ ہونے والا ہے۔
چین کے اس جوہری پروگرام کا مرکز زیتونگ کاؤنٹی کا علاقہ ہے جہاں کئی خفیہ اڈوں کو نئی سڑکوں کے ذریعے آپس میں جوڑ دیا گیا ہے۔
سی این اے کارپوریشن کے نیوکلیئر تجزیہ کار ڈیکر ایویلتھ کا کہنا ہے کہ اس جدید کاری کی وسعت بتاتی ہے کہ پورے نظام کی ٹیکنالوجی میں بنیادی تبدیلیاں کی گئی ہیں، جس کی وجہ سے اب مغرب کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہو گیا ہے کہ چین کتنے ایٹمی ہتھیار پیدا کر سکتا ہے۔
پینٹاگون کے مطابق چین دنیا میں سب سے تیزی سے جوہری ہتھیار تیار کرنے والا ملک بن چکا ہے اور اس کے ذخائر اب فرانس سے بھی تجاوز کر گئے ہیں، حالانکہ وہ ابھی بھی امریکا اور روس کے مقابلے میں کافی پیچھے ہے۔
دوسری جانب چینی وزارتِ دفاع کے ترجمان جیانگ بن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین صرف اپنے دفاع کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور وہ جوہری ہتھیاروں کے پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی پر سختی سے قائم ہے۔
تاہم کارنیگی انڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے سینئر فیلو ٹونگ ژاؤ کا ماننا ہے کہ چینی قیادت کا خیال ہے کہ ایٹمی صلاحیت کا مظاہرہ مغربی ممالک پر نفسیاتی اثر ڈال سکتا ہے اور انہیں ابھرتے ہوئے چین کی حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران میں جاری حالیہ جنگ نے چین کے اس عزم کو مزید پختہ کر دیا ہے کہ وہ اپنی فوجی طاقت کو کمزور نہ پڑنے دے۔