ٹرمپ کے خطاب کا اسرائیل میں خیرمقدم، ایران نے کیا مطلب نکالا؟

ٹرمپ کی بیان کردہ ٹائم لائن اسرائیلی وزیر اعظم کی حکمت عملی سے بڑی حد تک مطابقت رکھتی ہے: الجزیرہ
اپ ڈیٹ 02 اپريل 2026 12:22pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ خطاب کو اسرائیل میں مجموعی طور پر مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے، خصوصاً اس لیے کہ یہ آئندہ چند ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگی صورتحال میں امریکا کا ایران جنگ نہ چھوڑنے کا عندیہ دیتا ہے۔

اردن کے شہر عَمان سے عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے نمائندے روب مک برائڈ کے مطابق صدر ٹرمپ کی بیان کردہ ٹائم لائن اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکمت عملی سے بڑی حد تک مطابقت رکھتی ہے۔

نمائندے راب مکبرائڈ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ چند روز قبل نیتن یاہو کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ اسرائیل اپنی فضائی مہم میں طے کیے گئے اہداف کی فہرست کا نصف سے چند زائد حصہ مکمل کر چکا ہے۔

عرب میڈیا کے نمائندے نے بتایا کہ یہ فضائی مہم اب وسعت اختیار کر چکی ہے اور ایران کے وسیع تر انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہی ہے، جس میں بجلی گھر، کارخانے اور دیگر شہری تنصیبات شامل ہیں—یعنی وہ تمام عناصر جو ایرانی معیشت اور معاشرے کے معمول کے کام کاج کے لیے ضروری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل اس حکمت عملی پر گامزن ہے جس کا مقصد ایران کو شدید حد تک کمزور کرنا ہے۔ ٹرمپ کے الفاظ میں ایران کو کسی حد تک پتھر کے دور میں واپس دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

الجزیرہ کے رپورٹر راب مکبرائڈ نے مزید بتایا کہ اسرائیل میں ٹرمپ کے خطاب کے لہجے کو بھی سراہا جا رہا ہے، خاص طور پر اس حصے کو جس میں انہوں نے اس تنازعے کا جواز 7 اکتوبر کے اسرائیل پر حملوں کو قرار دیا۔

مزید برآں، ٹرمپ نے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ اگر ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت دی جاتی تو اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ جاتا—یہ وہ مؤقف ہے جو اسرائیل میں سخت گیر حلقوں، بالخصوص نیتن یاہو، کی جانب سے بارہا پیش کیا جاتا رہا ہے۔

دوسری جانب ایران میں ٹرمپ کے خطاب کو مختلف زاویے سے دیکھا جا رہا ہے۔ تہران سے رپورٹنگ کرتے ہوئے الجزیرہ کے نمائندے توحید اسدی کے مطابق ایرانی عوام کے لیے یہ خطاب کسی نئی بات کا حامل نہیں بلکہ ایک مانوس اور دہرایا جانے والا بیانیہ محسوس ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے ایک بار پھر دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا اور جنگ کے اختتام اور اس کے دورانیے سے متعلق عمومی بیانات دیے۔ تاہم ایرانی مؤقف اس سے مختلف ہے، جس کے مطابق یہ فیصلہ تہران ہی کرے گا کہ اس محاذ آرائی کا رخ کیا ہوگا اور یہ کب تک جاری رہے گی۔

نمائندے کا کہنا تھا کہ یہ بھی واضح نہیں کہ ٹرمپ کی مبہم گفتگو کسی ٹھوس حکمت عملی کی کمی کا نتیجہ ہے یا دانستہ ابہام پیدا کرنے کی پالیسی کا حصہ۔ تاہم بیشتر ایرانیوں کے نزدیک یہ ابتدا ہی سے واضح حکمت عملی کے فقدان کی عکاسی کرتا ہے۔

عرب میڈیا کے نمائندے کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے ایران اور ایرانی عوام کی تباہی سے متعلق بیانات کو ایران میں اجتماعی سزا کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ جاری فضائی حملوں میں بجلی گھروں اور دیگر شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے باعث سب سے زیادہ متاثر عام شہری ہو رہے ہیں، نہ کہ حکومتی اشرافیہ۔ ایران کی 9 کروڑ سے زائد آبادی اس صورتحال کے براہ راست اثرات کا سامنا کر رہی ہے۔

Read Comments