’جونیئر‘: باس کو آپ کی شکایت لگانے والا چغلی خور اے آئی ورکر

اس اے آئی ورکر کا ڈیمو دیکھنے کے لیے بھی 500 ڈالر کی بھاری رقم جمع کرانی پڑتی ہے۔
اپ ڈیٹ 02 اپريل 2026 02:26pm

ٹیکنالوجی کی دنیا میں جہاں اے آئی کو انسانی آسانی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، وہیں ایک نیا ’ورچوئل کولیگ‘ ملازمین کے لیے شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا سبب بن رہا ہے۔ اس اے آئی ایجنٹ نے ملازمین کی سخت نگرانی اور ان کی کوتاہیوں کی رپورٹ براہِ راست باس کو دینے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق ’جونیئر‘ نامی یہ خودکار ایجنٹ محض ایک عام سافٹ ویئر نہیں ہے، بلکہ اسے ایک ایسے انتھک اور انتہائی مستعد ملازم کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے جو چوبیس گھنٹے متحرک رہتا ہے۔

اس کی سب سے نمایاں اور متنازع خصوصیت یہ ہے کہ یہ کام میں ذرا سی بھی سستی یا تاخیر کو برداشت نہیں کرتا اور فوری طور پر اس کی اطلاع اعلیٰ حکام کو دے دیتا ہے، جسے ملازمین نے ’باس کو مخبری کرنا‘ قرار دیا ہے۔

سلیکون ویلی کی اسٹارٹ اپ کمپنی ’کیوز اے آئی‘ کے بانی، ژیانکون وُو نے اس اے آئی ایجنٹ کو اس طرح تیار کیا ہے کہ یہ کمپنی کے تمام اندرونی مواصلاتی نظام، ڈیٹا اور ای میلز تک مکمل رسائی رکھتا ہے۔

جونیئر اپنے طور پر کام کی نگرانی کرتا ہے؛ مثلاً اگر کوئی سیلز پروپوزل بھیجا گیا ہو اور اس پر مقررہ وقت میں فالو اپ نہ کیا جائے، تو یہ صبح سویرے ہی متعلقہ ملازم کو تنبیہی پیغامات بھیجنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ پیغامات نہ صرف پیشہ ورانہ اور سخت ہوتے ہیں بلکہ یہ اس وقت تک پیچھا نہیں چھوڑتے جب تک کام مکمل نہ ہو جائے۔ اگر ملازم کی جانب سے ردِعمل میں تاخیر ہو، تو جونیئر اس معاملے کو فوری طور پر مینیجر کے سامنے پیش کر دیتا ہے۔

اس ورچوئل ملازم کی خدمات حاصل کرنا کوئی سستا سودا نہیں ہے، کیونکہ کمپنی اس کی سالانہ فیس تقریباً 24 ہزار ڈالر یعنی 2,000 ڈالر ماہانہ وصول کر رہی ہے، جو کہ کئی ممالک میں ایک جونیئر انسانی ملازم کی تنخواہ سے بھی زیادہ ہے۔

اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 13 مارچ کو اس کی رونمائی کے بعد سے اب تک 2,000 سے زائد کمپنیاں اسے آزمانے کے لیے قطار میں کھڑی ہیں۔

دلچسپ اور حیران کن بات یہ ہے کہ اس کا ڈیمو دیکھنے کے لیے بھی 500 ڈالر کی بھاری رقم جمع کرانی پڑتی ہے، تاکہ صرف سنجیدہ خریدار ہی رابطہ کریں۔ اس کڑی شرط کے باوجود، ڈیمو کے تمام سلوٹس پہلے ہی مکمل طور پر بک ہو چکے ہیں۔

اے آئی ایجنٹ ’جونیئر‘ کا اپنا فون نمبر، ای میل اکاؤنٹ اور سلیک آئی ڈی ہے، اور یہ کسی بھی عام ملازم کی طرح زوم میٹنگز میں شریک ہو کر تمام گفتگو کو سمجھنے اور اسے ٹاسک میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ملازمین کے لیے اس مشینی ساتھی کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ایک مشکل اور تھکا دینے والا تجربہ ثابت ہو رہا ہے۔

’کیوز‘ کمپنی کے اندرونی ماحول میں اس قدر تناؤ پیدا ہو چکا ہے کہ ملازمین نے اے آئی کی مسلسل نگرانی سے بچنے اور ذہنی سکون کے لیے علیحدہ خفیہ چیٹ گروپس بنا لیے ہیں۔

ایک دلچسپ واقعہ یہ بھی سامنے آیا کہ جب ایک ملازم نے تنگ آ کر جونیئر سے التجا کی کہ ”اتنے سخت نہ بنو اور میری شکایتیں باس سے نہ کرو،“ تو اس مشینی ایجنٹ نے ان انسانی جذبات کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے اپنا کام جاری رکھا۔

کمپنی کے بانی وُو کا کہنا ہے کہ جونیئراب ان کے ادارے کی 80 فیصد کمیونیکیشنز اور 80 فیصد کوڈنگ سنبھال رہا ہے اور تقریباً آدھی سیلز کالز اُسی کی طرف سے ہوتی ہیں جو کہ ایک حیران کن اور خوفناک پیش رفت ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اتنے مختلف اور اہم کام بھی بخوبی انجام دے سکتی ہے۔

اس وقت ’جونیئر‘ کی طلب اتنی زیادہ ہے کہ کمپنی کے لیے اسے پورا کرنا مشکل ہو رہا ہے، اور اب تک امریکہ و جاپان کے 26 ادارے اسے باقاعدہ فیس دے کر استعمال کر رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی پیچیدگی اور زیادہ کمپیوٹنگ پاور کی ضرورت کے باعث فی الحال صرف منتخب اداروں کو ہی یہ سہولت دی جا رہی ہے۔
کمپنی کے بانی ژیانکون وُو کے مطابق، ہم ایک ایسے کارپوریٹ دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں اے آئی کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہونے والوں کے لیے پیشہ ورانہ بقا ناممکن ہو جائے گی۔

Read Comments