ٹرمپ کا ایران جنگ پر خطاب، عالمی میڈیا کی شدید تنقید
امریکی صدر کے حالیہ قومی خطاب پر عالمی میڈیا نے کڑی تنقید کی ہے، جس میں صدر کے بیانات کی تکرار اور کئی اہم نکات کی نظراندازی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
فرانسیسی خبر ایجنسی فرانس 24 کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عوام سے خطاب میں بتایا کہ امریکا ایران کے خلاف فتح کے قریب ہے، تاہم تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان امریکی عوام کے لیے یہ بیان نئے نہیں بلکہ گزشتہ کئی بار دہرایا جا چکا ہے۔
فرانس 24 نے رپورٹ کیا کہ صدر ٹرمپ نے اس جنگ کو ایران اور اس کے پراکسی گروہوں کی 47 سالہ جارحیت کا جواب قرار دیا، اور 13 مارچ کو اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا تھا کہ ایرانی حکومت نے گزشتہ 47 برسوں میں دنیا بھر میں معصوم لوگوں کو قتل کیا۔ صدر ٹرمپ نے لکھا کہ میں امریکا کا 47واں صدر ہونے کے ناطے، انھیں مار رہا ہوں، اور یہ کرنا ایک بڑا اعزاز ہے۔
خطاب میں صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا دو سے تین ہفتوں میں ایران سے نکل جائے گا، جبکہ یہ بات وہ پہلے بھی متعدد مرتبہ دہرا چکے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق صدر کے خطاب میں کئی خامیاں نمایاں رہیں اور کچھ اہم سوالات بغیر جواب کے رہ گئے جیسا کہ
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو صدر ٹرمپ کے ٹائم ٹیبل سے متفق ہیں؟ گزشتہ سال کی 12 روزہ جنگ کے دوران دبی ہوئی سیکڑوں کلو خالص یورینیم کو نکالنے کا منصوبہ کیا ہوا؟ صدر کا موقف آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے بارے میں کیا ہے؟ اگرچہ انہوں نے کہا کہ جنگ کے اختتام پر یہ قدرتی طور پر کھل جائے گا، مگر عملی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
اس کے علاوہ کیا ٹرمپ واقعی نیٹو سے علیحدہ ہونے کے بارے میں سنجیدہ ہیں؟ اگر ہاں، تو قوم سے خطاب میں نیٹو کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا؟
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کے نظریات اکثر ایک دن سے دوسرے دن تک بدل جاتے ہیں، جس سے موجودہ جنگ میں کامیابی کی صورت اور اس کے ممکنہ نتائج واضح نہیں ہو پائے ہیں۔ قومی خطاب کے صرف بیس منٹ کے بعد بھی امریکی عوام اور بین الاقوامی برادری کے لیے یہ سوالات بدستور جواب طلب ہیں۔